مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو نظرثانی کی ضرورت

   

امریکہ کا رویہ ہندوستان کے مقابلے پاکستان کیساتھ زیادہ نرم ہے ، کانگریس قائد جے رام رمیش کا بیان

نئی دہلی، یکم مارچ (یو این آئی) کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو ناکام اور ملکی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ملک کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے ، اس لیے اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے ۔کانگریس کے مواصلاتی شعبے کے انچارج جے رام رمیش نے اتوار کے روز کہا کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے باعث ہندوستان کے تئیں دنیا کے رویے میں تبدیلی نظر آرہی ہے اور امریکہ کا رویہ ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان کی جانب نرم ہے ، جسے ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ پاکستان کے تئیں نرم ہے اور یہی وجہ ہے کہ مسٹر ٹرمپ پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر سے وابستہ شخص کی اعلانیہ تعریف کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے افغانستان کے خلاف پاکستان کی کارروائی کی حمایت کی ہے ۔ صدر ٹرمپ کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ انہوں نے 10 مئی 2025 کو درآمدی محصولات بڑھانے کی دھمکی دے کر ‘آپریشن سندور’ رکوایا، لیکن وزیر اعظم نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ ان کے مطابق مہم روکنے کا پہلا اعلان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیا تھا۔ہندوستان۔امریکہ تجارتی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 فروری کو صدر ٹرمپ نے اس کا اعلان کیا تھا۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے یہ معاملہ اٹھایا، لیکن حکومت نے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ بعد میں امریکی سپریم کورٹ نے مسٹر ٹرمپ کی درآمدی محصولات کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا۔کانگریس نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے درآمدات کو آزاد بنانے کا عہد کیا، لیکن امریکہ نے اس بارے میں کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی۔ روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر بھی حکومت نے صورتِ حال واضح نہیں کی۔پارٹی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ اسرائیل دورے اور 19 جون 2020 کو چین کے بارے میں دیے گئے بیان نے ہندوستان کی پوزیشن کمزور کی ہے ۔ کانگریس نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سمت اور اندازے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے ۔