مودی حکومت کے خلاف انا ہزارے کی 30 جنوری سے بھوک ہڑتال

لوک پال کے تقرر میں تاخیر پر تنقید ، ڈکٹیٹر شپ چلانے کی کوشش،تلنگانہ جاگروتی انٹرنیشنل یوتھ لیڈر شپ کانفرنس سے سماجی جہد کار کا خطاب
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : سماجی جہدکار انا ہزارے نے آج کہا کہ وہ مرکز میں لوک پال کے تقرر میں تاخیر کے لیے مودی زیر قیادت حکومت کے خلاف 30 جنوری سے مہاراشٹرا کے اپنے موضع میں بھوک ہڑتال کریں گے ۔ انسداد رشوت ستانی جہدکار نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت اس معاملہ پر حیلے بہانے کررہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت دستوری اداروں کی ایک نہیں سن رہی ہے ۔ لوک پال اور لوک ایوکت قانون 2013 کو روبہ عمل لانے کے لیے دستوری ادارے زور دے رہے ہیں ۔ مودی حکومت اس ملک کو ڈکٹیٹر شپ کی جانب لے جارہی ہے ۔ انا ہزارے نے کہا کہ 2011 میں پورا ملک ریاستوں میں لوک پال اور لوک ایوت کے قیام کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ جس کے بعد ہی لوک پال بل منظور کیا گیا ۔ دسمبر 2013 میں قانون بنایا گیا اور 2014 میں مودی حکومت تشکیل پائی یہ سمجھا گیا تھا کہ مودی حکومت لوک پال کا تقرر کرے گی لیکن اب تک یہ نہیں ہوسکا ۔ انا ہزارے نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کو 32 مکتوب لکھے لیکن ان کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ مودی حکومت ’ بہانے بازی ‘ کرتے آرہی ہے ۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ 30 جنوری سے مہاتما گاندھی کی برسی کے موقع پر بھوک ہڑتال شروع کروں ۔ انا ہزارے آج یہاں تلنگانہ جاگروتی انٹرنیشنل یوتھ لیڈر شپ کانفرنس میں شرکت کررہے تھے ۔

انہوں نے اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ مہاتما گاندھی کے اصولوں پر چلیں اور ان کے نظریات کو اختیار کرتے ہوئے اپنی زندگی کو سماجی ترقی کے لیے وقف کردیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی مہاتما گاندھی کے افکار سے متاثر ہوئے ہیں اور ان کی تعلیمات کی روشنی میں ہی انہوں نے دیہی علاقوں کی ترقی کے لیے کام شروع کیا ہے ۔ جب وہ 25 سال کے تھے انہوں نے خود کشی کرلینے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن مہاتما گاندھی اور سوامی ویویکانند کے بارے میں مطالعہ کرنے کے بعد ان کے اقدار اور ان کے نظریات سے متاثر ہوا ۔ خود کشی کرلینے کا ارادہ ترک کر کے سماج کی بہتری کے لیے اپنی زندگی وقف کردی ۔ انہوں نے کہا کہ زائد از 11 لاکھ افراد نے ان کے موضع ریلگین سدھی مہاراشٹرا کا دورہ کیا ہے جو اب ایک ماڈل ولیج بن گیا ہے ۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایک موضع کو اپنائیں اور اس کے بعد دیکھیں کہ یہ ملک کس طرح ترقی کے منازل طے کرتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT