بی جے پی کارکن کی شکایت پر تفتیش کا ہوا آغاز ۔ ہندوؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس کا دعوی
حیدرآباد۔17۔مارچ(سیاست نیوز) ملک میں دعوت افطار کے اہتمام کے ذریعہ ہندو مسلم بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا ہے لیکن اب وارناسی میں جو کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا حلقہ انتخاب ہے وہاں گنگا ندی میں دعوت افطار کرنے پر 14 مسلم نوجوانوں کو پولیس نے حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کردیا ۔شمالی ہند کی ریاستوں میں ’گاؤ ماتا‘ کے نام کے بعد اب ’گنگا ماں‘ کے نام پر نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ گنگاندی میں تفریحی کشتی میں دعوت افطار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت کرنے کے بعد بی جے پی کے مقامی کارکن کی شکایت کے بعد مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں ان مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا اور یہ الزام عائد کیا جا رہاہے کہ ان 14 نوجوانوں نے ہندوؤں کے مذہبی مقام اور گنگا ندی کو ’اپوتر ‘ کردیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ان نوجوانوں پر یہ بھی الزام ہے کہ ’دعوت افطار‘ کے دوران روزہ کشائی کرنے والوں نے چکن بریانی استعمال کی اور گوشت کی باقیات ’گنگا‘ ندی میں پھینکتے ہوئے ’گنگا ماں‘ کی توہین کی ہے جس کے نتیجہ میںہندو طبقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔گنگا ندی جو کہ ہندوؤں کیلئے ایک مذہبی مقام کی حیثیت رکھتا ہے اور دنیا بھر سے گنگا کے 84گھاٹوں پر سیاح سیر و تفریح کی غرض سے آتے ہیں اور گنگاندی کے آس پاس سادھو سنتوں کے اکھاڑوں میں عدم تشدد کی تعلیم کو عام کیا جاتا ہے ۔ گنگا کی تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو گنگا کے کناروں نے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانیت کا درس دینے میں جو کردار ادا کیا ہے اس کی سب سے بڑی مثال مسلم خاندان میں پرورش پانے والے ’سنت کبیر داس ‘ کی ہے جن کے دوہے اور اشعار آج بھی انسانیت بالخصوص جو مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ان کیلئے بہترین نمونہ اور درس ہے۔ سنت کبیر داس نے کہا تھا کہ ’برا جو دیکھن میں چلا برا نہ ملیا کوئے ‘ جو دل کھوجا اپنا مجھ سے برا نہ کوئے ‘ بنارس (وارناسی ) کے گھاٹوں اور اس تاریخی شہر کے بزرگوں سے ملاقات کے دوران کبیر داس کے یہ دوہے بات چیت میں استعمال ہوتے نظر آتے تھے لیکن آج اسی گنگا میں افطار پر 14 مسلم نوجوانوں کو حراست میں لیتے ہوئے تفتیش کی جارہی ہے اور گنگا میں افطار پر ؎ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا قرار دیا جا رہاہے۔کبیر داس نے گنگا سے متعلق تصور کو متعدد مقامات پر چیالنج کیا تھا اور ان کی ایک بات خصوصیت کے ساتھ ریکارڈ پر موجود ہے کہ اگر محض ’گنگا‘ میں سنان کرنے سے گناہ دھو دیئے جاتے ہیں تو دنیا میں سب سے زیاد ہ پاک ’گنگا‘ میں موجود مچھلیاں ہیں۔3