موسم سے قبل بھاری قیمت کے ساتھ مارکٹ میں آم پہنچ گیا

   

جاریہ سیزن میں مختلف وجوہات سے 30 فیصد کم پیداوار کا امکان
حیدرآباد۔7۔اپریل (سیاست نیوز) پھلوں کا بادشاہ ’آم‘ بازار میں موسم سے قبل پہنچ چکا ہے اور موسم میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے علاوہ غیر موسمی بارشوں کے نتیجہ میں ’آم ‘ کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے بیشتر تمام بازاروں میں آم نظر آنے لگے ہیں لیکن ان کی قیمت میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے نتیجہ میں ان کی فروخت متاثر ہورہی ہے۔ محکمہ باغبانی کی جانب سے اس بات کی توثیق ہوچکی ہے کہ 5تا10 فیصد آم کی فصل موسم کے آغاز سے قبل بازاروں میں پہنچ چکی ہے جبکہ غیر موسمی بارش کے نتیجہ میں فصلوں کو ہونے والے نقصان کے نتیجہ میں آم کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ جاریہ سال ’آم ‘ کے موسم کے دوران مجموعی اعتبار سے 30فیصد پیداوار کم ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق ریاست میں 3 لاکھ ایکڑ اراضی پر ’آم‘ کی پیداوار ہوتی ہے لیکن جاریہ سال 2.8لاکھ ایکڑ پر آم کی پیداوار ہورہی ہے اور موسم کی خرابی بالخصوص غیر موسمی بارش کے نتیجہ میں آم کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ جو پھول لگے ہوئے تھے تیز ہواؤں کے علاوہ بارش کے سبب وہ گرنے لگے ہیں۔بازار میں جو آم دستیاب ہیں ان میں وہ آم زیادہ ہیں جو وقت سے پہلے ہی درختوں سے توڑ لئے گئے تھے ۔آم کے مختلف اقسام جو تلنگانہ کے بازار میں دستیاب ہوتے ہیں ان میں ’بے نشان‘ آم کی پیداوار میں 30 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ دیگر آموں کی اقسام میں 60 فیصد کی کمی ریکارڈ کئے جانے کا خدشہ ہے جس کے نتیجہ میں آم کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ محکمہ باغبانی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ آئندہ 15تا20 کے دوران بازار میں آم کثرت سے پہنچ سکتے ہیں اور ان دنوں میں آموں کی قیمتوں پر کچھ کنٹرول کے امکانات ہیں۔ غیر موسمی بارشوں کی پیش قیاسی کے نتیجہ میں کاشتکاروں نے جو آم درختوں سے وقت سے قبل توڑے ہیں وہ اب بازار میں موجود ہیں اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن آم کی فصل میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے نتیجہ میں آم کی قیمت میں اضافہ کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔3/A/b