موسیٰ ندی انہدامی کارروائی ۔ گاندھیائی فکر کی خلاف ورزی

   

گاندھی جی کے پڑ پوتے تشار گاندھی کا ردعمل ، فوری کارروائی روکنے کا مطالبہ

حیدرآباد 24 فروری ( سیاست نیوز ) : مہاتما گاندھی کے پڑ پوتے تشار گاندھی نے موسیٰ ندی کے کنارے مجسمہ گاندھی کی تنصیب کیلئے غریب عوام کو مکانات سے بیدخل کرنے اور انہدامی کارروائی پر سخت اعتراض کیا ہے ۔ تشار گاندھی نے سوشیل میڈیا پر حکومت کی اس کارروائی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مکانات کو منہدم کر کے گاندھی کا مجسمہ نصب کرنا گاندھیائی فکر کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مہاتما گاندھی زندہ ہوتے تو وہ اپنے نام ایسی کارروائی کی ہرگز اجازت نہ دیتے ۔ انہوں نے حکومت اور بالخصوص چیف منسٹر ریونت ریڈی سے اپیل کی اس عمل کو فوری روکا جائے ۔ ذرائع کے مطابق حکومت کے موسیٰ بیوٹیفیکیشن کے نام پر دیڑھ لاکھ سے زائد مکانات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیاہے ۔ سروے کیلئے حمایت ساگر سے شروع ہونے والے تقریباً 900 میٹر کے دائرے میں اراضیات کی نشاندہی کی ہے اور ایک ساتھ تقریباً 24 ہزار ایکڑ اراضی حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ تاہم ڈسمبر میں جاری گزٹ نوٹیفیکیشن میں صرف 3200 ایکڑ اراضی کے حصول اور 10 ہزار ڈھانچوں کے متاثر ہونے کی بات کہی گئی ۔ موجودہ اندازوں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق پر سوال اٹھائے جارہے ہیں ۔ سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر نئی بحث چھڑگئی ہے اور متاثرین کی جانب سے حکومت کے فیصلے پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ سیاسی قائدین ‘متاثرین سے ملاقات کرکے احتجاج کی تائید و حمایت کررہے ہیں۔ اب تشار گاندھی نے بھی اس کی مخالفت کی ہے انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی اور سی ایم او کو بھی ٹیاگ کیا ہے ۔ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر بڑے پیمانے پر بے دخلی گاندھیائی اصولوں سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں حکومت کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ 2