ریونت ریڈی پر رئیل اسٹیٹ کاروبار کا الزام، انصاف کیلئے جدوجہد کا تیقن
حیدرآباد۔ 22 فروری (سیاست نیوز) سابق ریاستی وزیر ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے نام پر ریونت ریڈی رئیل اسٹیٹ بزنس کرنا چاہتے ہیں۔ ہریش راؤ نے آج موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ سے متاثر ہونے والے خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کے احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے اظہار یگانگت کیا۔ مختلف اپارٹمنٹس سے تعلق رکھنے والے افراد نے دھرنا منظم کرتے ہوئے اراضی کے حصول کی نوٹس پر احتجاج کیا۔ ہریش راؤ نے متاثرین سے ملاقات کی اور کہا کہ ریونت ریڈی ریئل اسٹیٹ کاروبار کو فروغ دینے کے لئے پراجکٹ پر عمل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کی خوبصورتی نہیں بلکہ ریونت ریڈی کو ریئل اسٹیٹ لوٹ سے مطلب ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے ہر اقدام کے پیچھے اراضیات پر قبضے اور رئیل اسٹیٹ کاروبار پوشیدہ ہے۔ غریبوں کے مکانات کو منہدم کرتے ہوئے جبراً اراضی حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب غریبوں کی اسکیمات کے لئے حکومت کے پاس بجٹ نہیں ہے تو پھر کیمپ آفس کی تعمیر پر سینکڑوں کروڑ کا خرچ کس طرح ممکن ہے؟ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے آپباشی پراجکٹس تعمیر کئے جبکہ ریونت ریڈی بلڈوزر کے ذریعہ غریبوں کے مکانات منہدم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس موسیٰ ندی پراجکٹ کے متاثرین کے ساتھ کھڑی رہے گی اور انہیں انصاف دلایا جائے گا۔ اس موقع پر سابق وزیر سبیتا اندرا ریڈی، رکن اسمبلی سدھیر ریڈی اور بی آر ایس کے دیگر قائدین موجود تھے۔ ہریش راؤ نے موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کے متاثرین سے ملاقات کرتے ہوئے مکانات کے انہدام کے لئے دی گئی نوٹس کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں شہر کی ترقی کے لئے جامع منصوبہ پر عمل کیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جوبلی ہلز میں 100 کروڑ کے مصارف سے چیف منسٹر کا کیمپ آفس کس طرح تعمیر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی پراجکٹ کے نام پر ریونت ریڈی اپنے قریبی افراد کو ریئل اسٹیٹ کاروبار کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ چیف منسٹر کے قریبی افراد اراضیات پر ناجائز قبضوں میں ملوث ہیں۔ 1