حیدرآباد :۔ شہر میں ہوئی متواتر شدید بارش اور تباہ کن سیلاب کے دو ماہ بعد بھی کھلے ڈرینس اور موسیٰ ندی میں مرمتی کام انجام دینا دکھائی نہیں دیتا ہے ۔ موسیٰ ندی میں آئے سیلاب سے اکٹوبر کے وسط میں چادر گھاٹ اور موسیٰ رام باغ پر کازوے بریجس پر سیفٹی ریلنگس بہہ گئی تھیں ۔ چادر گھاٹ برج پر ریلنگس کی جگہ عارضی سیفٹی اقدام کے طور پر دونوں جانب لکڑی کے میخ لگائے گئے ہیں اور نئی ریلنگس لگانے کی اب تک کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ موسیٰ رام باغ پر حالانکہ عارضی مرمتی کام کئے گئے ہیں اور میٹل پولس کو جالی لگائی گئی ہے جو کسی بھی طرح کراش بیرئر کا کام نہیں کرسکتی ۔ چادر گھاٹ کے ساکن ایک شخص نے کہا کہ ’’ گاڑی کی سواری کرنے والوں کو بڑا خطرہ لاحق ہے بالخصوص رات کے اوقات میں ۔ شنکر نگر ، پدما کالونی اور موسیٰ نگر جیسے علاقوں کے چھوٹے بچے اور سینئیر سٹیزنس اگر چوکنا نہ رہیں تو ندی میں گر سکتے ہیں ‘‘ ۔ دوسرے مقامات پر جیسے چیتنیہ پوری اور سرور نگر میں بارش کے پانی کے کھلے نالوں پر ریٹینگ والس گر گئی ہیں اور یہاں بھی عارضی لکڑی کے میخ سے ایسا ہی انتظام کیا گیا ۔ چیتنیہ پوری کے ساکن نارائن سوامی نے کہا کہ ’’ سڑک کی دونوں جانب نالہ پر ریٹینگ والس ٹوٹ گئی ہیں جس کی وجہ سرور نگر جھیل سے سیلاب کے پانی کا بہاؤ ہوا اور 14 اکٹوبر کو ہائی وے زیر آب ہوگیا تھا ۔ انہیں دوبارہ تعمیر کرنے کے سلسلے میں تاحال کوئی پہل نہیں ہوئی حالانکہ اس سے سنگین خطرہ لاحق ہے ‘‘ ۔ اوائل نومبر میں ایک عمر رسیدہ خاتون سرور نگر جھیل کے قریب سیسالا بستی کے قریب نالہ میں گر فوت ہوگئی جہاں ریٹنگ وال پانی کے گرادب سے گر گئی تھی ۔ اس کی نعش بعد میں ہنومان نگر میں ایک ڈرین سے برآمد ہوئی تھی ۔ اس واقعہ کے بعد بھی نالہ پر ریٹیننگ وال تعمیر کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے کہا کہ ریٹیننگ والس کی تعمیر کے لیے تخمینہ جات تیار کیا گیا اور ٹنڈرس ہنوز طلب نہیں کئے گئے کیوں کہ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کونسی ونگ کو یہ کام انجام دینا ہوگا ۔ حکومت نے اسٹریٹجک نالہ ڈیولپمنٹ پروگرام پر عمل درآمد کے لیے جی ایچ ایم سی میں ایک علحدہ ونگ تشکیل دی ہے ۔ ایک عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ ہم نے اس بات کے لیے وضاحت طلب کی ہے کہ کونسی ونگ کو ریٹیننگ والس کی تعمیر کے کام انجام دینے ہوں گے ۔ جیسے ہی اس کی وضاحت کردی جائے گی ہم کاموں کو شروع کریں گے ‘‘ ۔۔