مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں طویل عرصہ سے جائیدادیں مخلوعہ

   

تعلیم متاثر، فوری تقررات کیلئے لوک سبھا میں ٹی آر ایس رکن ڈاکٹر رنجیت ریڈی کی اپیل
حیدرآباد ۔4۔ڈسمبر (سیاست نیوز) چیوڑلہ کے ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رنجیت ریڈی نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر فی الفور تقررات کا مطالبہ کیا تاکہ یونیورسٹی کی ترقی اور طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہوں۔ ڈاکٹر رنجیت ریڈی نے آج لوک سبھا میں اردو یونیورسٹی کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی یونیورسٹی میں فیکلٹیز کی موجودگی کے بغیر ریسرچ کا کام انجام نہیں دیا جاسکتا۔ فیکلٹیز اور عہدیداروں کی بہتر کارکردگی یونیورسٹی کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔ اردو یونیورسٹی قومی سطح کی یونیورسٹی ہے اور اگر بہتر تعلیمی سہولتیں اور رہنمایانہ خطوط پر عمل نہیں کیا گیا تو طلبہ کی تعلیم متاثر ہوگی۔ رنجیت ریڈی نے کہا کہ یونیورسٹی میں بیشتر اہم جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسرس کی 47 منظورہ جائیدادوں میں 23 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ اسوسی ایٹ پروفیسرس کی 95 اور اسسٹنٹ پروفیسرس کی 266 جائیدادوں میں 90 فیصد مخلوعہ ہیں۔ ان مخلوعہ جائیدادوں پر طویل عرصہ سے تقررات نہیں کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیچنگ کے علاوہ نان ٹیچنگ کی کئی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ رنجیت ریڈی نے کہا کہ یونیورسٹی میں اس قدر بڑی تعداد میں جائیدادوں کا مخلوعہ رہنا مناسب نہیں ہے ۔ ڈاکٹر رنجیت ریڈی نے وزیر فروغ انسانی وسائل سے اپیل کی کہ اردو یونیورسٹی میں تقررات کی باقاعدہ مہم کے ذریعہ مخلوعہ جائیدادوں کو پر کیا جائے تاکہ یونیورسٹی کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔