مکتھل میں تمام نشیبی علاقے زیر آب، تین مکانات منہدم

   

مکتھل ۔ یکم ؍ ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) حلقہ اسمبلی مکتھل میں مسلسل پچھلے دو روز سے شدید بارش کے باعث تمام نشیبی علاقے زیر آب ہوگئے اور معمول کی یومیہ سرگرمیوں پر زبردست اثر پڑا جبکہ مکتھل مستقر ٹاؤن کے بعض محلہ جات میں بارش کے پانی کی عدم نکاسی کے باعث محلہ جات کی سڑکیں شدید متاثر رہیں اور جگہ جگہ گڑھے اور پانی کے باعث مکینوں اور راہ گیروں کو سخت تکلیف اور مشکلات درپیش رہیں اور گھروں اور مکانوںکے سامنے پانی جمع رہا، مکتھل تحصیل آفس کے ذرائع کے مطابق مکتھل منڈل میں بارش سے تین مکانات منہدم ہوئے جبکہ بعض دیگر مواضعات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دس سے زائد مکانات کو جزوی نقصان ہوا، رکن اسمبلی مکتھل سری ہری نے گورلاپلی روڈ، سری رام نگر کالونی اور اس سے متصل علاقوںمیں گھروں تک پہنچے پانی کا مشاہدہ کیا اور فوری جی سی پی کے ذریعہ پانی کی نکاسی کے لئے راستہ بنانے کا نظم کیا جبکہ موضع کرنی، سنگم بنڈہ اور گول پلی جانے والی سڑکیں بھی شدید متاثر رہیں۔ ایڈیشنل کلکٹر لوکل باڈیز اشوک کمار نے بھی ریونیو عہدیداروں کے ساتھ تمام متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے متاثرین کی امداد اور بازآبادکاری و دیگر راحت کے کاموں کے لئے ضروری اقدامات کرنے عہدیداروں کو ہدایات جاری کی جبکہ مکتھل نارائن پیٹ روڈ بھی اٹکور تالاب کا پانی اٹکور برج کے اوپر سے بہنے کی وجہ چند گھنٹے معطل رہی اور ٹرانسپورٹ، حمل و نقل بھی شدید متاثر رہے۔ ضلع کلکٹر نارائن پیٹ سمتا پٹنائک نے پورے ضلع میں نظم و نسق کو متحرک کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کیا۔ یہاں موصولہ باوثوق ذرائع کے مطابق رائچور ۔ حیدرآباد قومی شاہراہ پر واقع مریکل کے تالاب کا پانی بھی اپنے تیز بہاؤ کے باعث قومی شاہراہ پر بہنے سے ٹرانسپورٹ اور حمل و نقل کو پولیس کی نگرانی میں احتیاط سے آگے بڑھایا جاتا رہا جبکہ کوئل ساگر پراجکٹس کے دروازوں کی کشادگی کے باعث بنڈریلی نالہ میں بھی پانی اپنی تیزی اور بھرپور رفتار کے ساتھ بہتا رہا جس سے اس قومی شاہراہ کے مسافرین بنڈپلی برج پر کھڑے لطف اندوز و محظوظ ہوتے رہے۔