مہاراشٹرا اسمبلی الیکشن: انتخابی مہم کا اختتام‘ کل ووٹنگ

,

   

جھارکھنڈکے دوسرے مرحلہ اوریوپی کے ضمنی انتخابات کی بھی کل رائے دہی

ممبئی:مہاراشٹر ااسمبلی انتخابات کے لئے انتخابی مہم پیر کو ختم ہوگئی، حکمران بی جے پی کی زیرقیادت مہایوتی اتحاد کے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے بھر پور کوششیں کی جارہی ہیں۔ دوسری طرف مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے اتحاد کی مضبوط کے ساتھ واپسی کی امید ہے۔مہاراشٹرا اسمبلی کی 288نشستوں کیلئے 20نومبر کو ایک ہی مرحلہ میں ووٹنگ ہو گی جبکہ جھارکھنڈ میں دوسرے مرحلہ کیلئے بھی انتخابی تشہیر آج ختم ہوگئی جہاں چہارشنبہ کو ووٹنگ ہوگی۔ اسی طری اتر پردیش کے 9اسمبلی حلقوں میں بھی 20نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے جس کیلئے یوگی کی زیر قیادت بی جے پی کامیابی کیلئے کوشاں ہے جبکہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو بھی جیت کیلئے بھر پور محنت کررہے ہیں۔ مہاراشٹرا کی انتخابی مہم میں تمام جماعتوں کے اہم قائدین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔انتخابی مہم میں نریندر مودی، امیت شاہ، راہول گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا نے خوب مہم چلائی جبکہ بہت سے مرکزی وزراء اور اہم لیڈروں کو اپنے امیدواروں کے لیے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ریاست کا چکر لگاتے دیکھا گیا۔مہاوتی جس میں بی جے پی، وزیر اعلیٰ ایکناتھ شنڈے کی قیادت والی شیو سینا اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شامل ہے اپنی مقبول اسکیموں پرعوام کو راغب کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔دوسری طرف مہاوکاس اگھاڑی کی اتحادی جماعتوں نے اپنے منشور میں کئی ترغیبات دیکر عوام کو راغب کیا ہے ۔انتخابی تشہیر کے دوران الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ بھی جاری رہا جبکہ ایک دوسرے کے خلاف نا زیبا ریمارکس بھی کئے گئے ۔سب ہی جماعتو ں نے اخباری اشتہارات کے ذریعہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے۔حکمراں اتحاد مہاوتی اور اپوزیشن مہا وکاس اگھاڑی نے ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہوئے اخباری اشتہارات کی جنگ شروع کی۔ دونوں حریف اتحادوں نے اپنے اشتہارات میں اخباری سرخیوں کا حوالہ دے کر ایک دوسرے کی ناکامیوں کو اجاگر کیا۔مہاوتی کے اشتہار میں 26/11 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں سے لے کر کوویڈ کٹ اسکام تک کے واقعات کا احاطہ کیا گیا تھا اور ان کے لیے ایم وی اے کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اس اشتہار میں کووڈ وبائی امراض کے دوران تارکین وطن کارکنوں کو کھانا فراہم کرنے اور باڈی بیگز کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں پر بھی زور دیا گیا۔ایم وی اے کے اشتہار میں وزیر اعلی ایکناتھ شنڈے کی قیادت میں مہاوتی حکومت کی مبینہ ناکامیوں کو درج کیا گیا ہے۔ اشتہار میں بدعنوانی پر روشنی ڈالی گئی اور ہٹ اینڈ رن کیسز، خواتین کے خلاف جرائم اور خالی سرکاری آسامیوں کا ذکر کیا گیا۔ اشتہار میں شیواجی کے مجسمے میں مبینہ بدعنوانی کے معاملے کو بھی اجاگر کیا گیا اور بی جے پی کے دیویندر فڑنویس کو سینا کے سربراہ ایکناتھ شندے اور این سی پی لیڈر اجیت پوار کو کنٹرول کرنے والے کٹھ پتلی کے طور پر دکھایا گیا۔ مہاراشٹرا کے سابق وزیر و این سی پی شردپوار گروپ کے لیڈر انیل دیشمکھ آج اُس وقت زخمی ہوگئے جب ناگپور ضلع میں ایک جلسہ سے واپسی کے دوران ان کی کار پر سنگباری کی گئی ۔ بہر حال مہم آج ختم ہوگئی اور 20نومبر کو عوام اپنے ووٹ کے ذریعہ امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔23نومبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔