بوئن پلی شیلٹر میں قلب پر حملہ ۔ نعش آبائی مقام کو روانہ کردی گئی
حیدرآباد۔2 اپریل (پی ٹی آئی ) ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والا ایک 22 سالہ طالب علم جو مہاراشٹرا میں وردھا کے مقام سے پیدل چل پڑا تھا تقریبا 450 کیلومیٹر کا فاصلہ پیدل یا پھر دستیاب سہولتوں سے استفادہ کے بعد تلنگانہ میں فوت ہوگیا ۔ یہ نوجوان گذشتہ 10 دن سے پیدل سفر کرتے ہوئے مہاراشٹرا میں وردھا سے تلنگانہ تک پہونچ پایا تھا اور اسے ٹاملناڈو جانا تھا ۔ پولیس نے آج یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ بالاسبرامنی لوگیس نامی اس نوجوان کا تعلق مغربی ٹاملناڈو میں نامکل کے مقام سے تھا ۔ وہ دوسرے 30 افراد کے ساتھ وردھا ( مہاراشٹرا ) سے روانہ ہوا تھا جہاں وہ اگر و ۔ فوڈ شعبہ میں ایک ٹریننگ کورس میںشرکت کر رہا تھا ۔ یہ لوگ 21 دن کے لاک ڈاون کا اعلان ہونے کے بعد مہاراشٹرا سے پیدل ہی چل پڑے تھے ۔ یہ گروپ چہارشنبہ کو بوئن پلی مارکٹ علاقے میں پیدل جاتا دکھائی دیا ۔ پولیس اور ریوینیو عہدیداروں نے انہیں بتایا کہ سڑکوں پر عوام کی نقل و حرکت پر پابندی ہے ۔ انہیں شیلٹر میں تبدیل کئے گئے ایک شادی خانہ کو منتقل کرکے غذا فراہم کی گئی تھی ۔ نصف شب کے قریب لوگیش اچانک گرپڑا اور بیہوش ہوگیا ۔ اس کے ساتھیوں نے پولیس کو مطلع کیا ۔ پولیس نے اسے دواخانہ منتقل کیا جہاں اسے مردہ قرار دیا گیا ۔ پولیس کے بموجب لوگیس اور دوسرے وردھا میں ایک ٹریننگ کورس میں شرکت کر رہے تھے ۔ انہوں نے لاک ڈاون کے اعلان کے بعد ٹاملناڈو واپس ہونے کا فیصلہ کیا تھا ۔ وہ پیدل اور ٹرکس وغیرہ کی مدد سے آگے بڑھ رہے تھے ۔ ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ انہوں نے پیدل کتنا فاصلہ طئے کیا تھا ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں قلب پر حملہ موت کی وجہ بتائی گئی ۔ نعش ایمبولنس میں اس کے آبائی مقام روانہ کردی گئی ہے ۔ نعش کے ساتھ گروپ کے چار ارکان کو بھی روانہ کیا گیا ہے ۔