کانگریس ، این سی پی اتحاد کے مظاہرہ سے بی جے پی خائف
حیدرآباد۔2۔مئی ۔ (سیاست نیوز) مہاراشٹرا کی سیاست میں تیزی سے تبدیلی کے آثار نے ملک بھر میں بے چینی پیدا کردی ہے گذشتہ چند یوم سے این سی پی قائد اجیت پوار کے غائب ہونے اور ان کے متعلق قیاس آرائیوں کے دوران یکم مئی کو یوم مہاراشٹرا کے موقع پر مہاراشٹرا کے اپوزیشن اتحاد شیوسینا ‘ این سی پی اور کانگریس کی جانب سے کئے گئے طاقت کے مظاہرہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور ریاستی حکومت مہاراشٹرا کے خیموں میں ہلچل پیدا کردی تھی کہ دوسرے ہی دن این سی پی سربراہ و قدآور قائد شرد پوار نے پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے نیا بھونچال پیدا کردیا ہے۔مہاراشٹرا میں شیوسینا میں پھوٹ کے بعد بی جے پی کی حمایت کے ساتھ تشکیل دی گئی حکومت کے بعد سے جاری سیاسی غیر یقینی کی صورتحال اور سپریم کورٹ کی جانب سے اس وقت کے گورنر کے کردار پر سوال اٹھائے جانے کے بعد حالات تیزی سے تبدیل ہونے لگے ہیں اور چند ہفتہ قبل این سی پی قائد اجیت پوار کے چند یوم کے لئے عوامی زندگی سے غائب ہونے پر یہ دعویٰ کیا جانے لگا تھا وہ این سی پی میں پھوٹ ڈالتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہونے والے ہیں لیکن انہوں نے اس بات کی تردید کردی بعدازاں مہاراشٹرا میں اقتدار کی تبدیلی کی قیاس آرائیاں کی جانے لگی تھیں اسی دوران اپوزیشن اتحاد میں شامل تمام سیاسی جماعتوں شیوسینا(ادھو ٹھاکرے) ‘ این سی پی اور کانگریس نے یکم۔مئی کو منعقد کئے جانے والے ’’یوم مہاراشٹرا‘‘ کے موقع پر طاقت کے مظاہرہ کا اعلان کیا تھا جس میں لاکھوں کی تعداد میں عوام نے شرکت کرتے ہوئے ’مہاوکاس اگھاڑی ‘ کے جلسہ عام کو کامیاب بنایا۔ اس جلسہ عام کی تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہوئے یہ کہا جانے لگا ہے کہ مہا وکاس اگھاڑی کے جلسہ عام میں لاکھوں افراد کی شرکت کے سبب اب مہاراشٹرا میں صرف آنسوں بہانے یا رونے سے کام نہیں چلے گا بلکہ گالی دیئے جانے پر آنسو بہاتے ہوئے عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے والوں کو مہاراشٹرا میں صرف آنسو بہانے یا رونے سے کام نہیں چلنے والا ہے بلکہ یہاں کچھ زیادہ ہی رونا پڑسکتا ہے۔اس کے علاوہ ٹوئیٹر پر کئے جانے والے تبصروں کے دوران کرناٹک میں وزیر اعظم کی جانب سے آنسو بہائے جانے کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ مہاراشٹرا میں دھاڑیں مارکر رونا پڑسکتا ہے کیونکہ مہاراشٹرا کے عوام نے مہاوکاس اگھاڑی کے جلسہ عام میں بھاری تعداد میں شرکت کرتے ہوئے زمینی حقائق کو آشکار کردیا ہے۔م