مہاراشٹرا : گاؤں میں سی اے اے ‘ این آر سی کیخلاف قرارداد

   

اورنگ آباد، 22 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا میں ضلع بیڑ کے گاؤں پتروڈ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس (این آر سی) کے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔ اِس ماہ کے اوائل ماجل گاؤں تحصیل میں پتروڈ کی گرام پنچایت نے اپنی پنچایت میں قرارداد منظور کی۔ اس قرارداد کی نقل سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا: ’’سی اے اے اور این آر سی کے بارے میں سماج میں الجھن پائی جاتی ہے۔ یہاں (پتروڈ گاؤں میں) مقیم تمام لوگ ہندوستانی ہیں، لیکن ان کے پاس اپنی قومیت ثابت کرنے کیلئے کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔ لہٰذا، سی اے اے اور این آر سی کو اس گاؤں میں لاگو نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ گاؤں کے ساکن ایکناتھ ماسکے نے کہا کہ موضع کی آبادی لگ بھگ 18,000 ہے۔ دیہاتیوں کی رائے نئے قانون شہریت اور این آر سی کے خلاف ہے۔ ’’اس لئے ہم نے ان قوانین کو ہمارے گاؤں میں لاگو نہ کرانے کا فیصلہ کیا اور قرارداد منظور کی۔‘‘ گرام سیوک سدھاکر گائیکواڈ نے کہا: ’’حکومت کا سی اے اے اور این آر سی کا اقدام گاؤں کے سماجی تانے بانے پر اثرانداز ہوا ہے۔ لہٰذا، دیہاتیوں نے یہ قرارداد منظور کی۔‘‘