مہاراشٹر الیکشن :مسلمانوں کو زیادہ ٹکٹ دینے کا مطالبہ

   

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی الیکشن مسلمانوں کو زیادہ ٹکٹ دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے اور یہی مسلم اکثریتی علاقوں میں کیا جارہا ہے ۔جنوبی ممبئی میں بائیکلہ انتخابی حلقہ سے مسلم امیدوار کے لیے اہم ترین میٹنگ طلب کی گئی۔مستقبل میں بھی اس کا امکان ہیکہ دوسرے علاقوں میں ایسا مطالبہ کیا جائے ۔دراصل اسمبلی الیکشن کے قریب آنے کے پیش نظر مسلم دانشوراں سماجی کارکنان علماء کرام کے حلقوں میں یہ گفتگو عام ہو گئی ہے کہ مہاراشٹر میں جہاں مسلمانوں کی آبادی 12 فیصد سے زائد ہے وہا ں کامیاب مسلم ایم ایل اے کی مجموعی تعداد 4 فیصد بھی نہیں ہے ۔اس لیے تمام تر کوششوں کے ذریعہ مسلم نمائندگی میں اضافہ کرنا اس الیکشن میں بہت ضروری ہے ۔ اسی سلسلے میں حلقہ بائیکلہ کے علماء کرام، سر کردہ سماجی ذمہ داران، سیاسی میدان میں سرگرم عمل افراد کی ایک نشست آگری پاڑہ میں منعقد ہوئی۔اس موقع پرافتتاح میں ایکٹوسٹ سعید خان نے کہا کہ یہ درد و بے چینی ہندوستان اور بالخصوص مہاراشٹر کے مسلمانوں میں بہت زیادہ ہے کہ سیکولرازم کے نام پر سیاسی پارٹیاں مسلم ووٹوں سے اپنے امیدوار کامیاب کر لیتی ہیں، لیکن جب مسلمانوں کو ٹکٹ دے کر ان کی نمائندگی کا حق دینے کا وقت آتا ہے تو بے دلیل بنیادات پر ان کو محروم کردیا جاتا ہے ۔مولانا عبدالجبار اعظمی خطیب و امام چشتی ہندوستانی مسجد نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے ک بائیکلہ حلقہ کے سرکردہ ذمہ دار افراد نے اس اہم معاملے میں مل بیٹھ کر کوئی مثبت راستہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ علاقہ مسلم اکثریتی ہے اس لئے اس حلقے سے مسلم امیدوار مانگنا اصولی بات ہے ۔
جناب شبیر احمد انصاری کل ہند صدر آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن نے یہ تجویز رکھی کے مسلمانوں کو انڈیا الائینس کے ساتھ مہاراشٹر کے مسلم ایک مکمل اکائی کے طور پر الائینس کرنا چاہیے اور ۱۷ سے ۲۰ انتخابی حلقے کا مطالبہ کرنا چاہیں اس عمل سے ہی ہمارا وزن بنے گا اور مسلم نمائندگی میں اضافہ ہوگا۔