ممبئی: خواتین کی حفاظت کے لیے بدھ کو مہاراشٹر کی قانون ساز اسمبلی میں ترمیم شدہ شکتی بل پیش کیا گیا، جس میں اجتماعی عصمت دری کے مجرموں کو سزائے موت دینے کا انتظام ہے۔ وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے بدھ کو ترمیم شدہ شکتی بل پیش کیا، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج کے 30 دنوں کے اندر تفتیش مکمل کرنی ہوگی۔ الیکٹرانک ثبوت فراہم کرنے میں تاخیر پر انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے کو بھی جیل بھیج دیا جائے گا۔ بل پر بحث ہونا باقی ہے۔ شکتی بل پر شیو سینا لیڈر نیلم گورہے نے کہا، ’’بہت سے لیڈروں کی طرف سے دی گئی اچھی تجاویز کو بھی بل کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مجرموں کو جلد سزا دی جائے۔ خواتین کے خلاف تیزاب گردی اور سائبر کرائمز بھی اس قانون کی زد میں آئیں گے۔ وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے کہا کہ اس قانون میں یہ بھی شرط ہے کہ جھوٹے الزامات لگانے والوں کو بھی سزا دی جائے گی۔