یانگون : اقوام متحدہ نے جمعرات کو بتایا کہ میانمار میں بارودی سرنگوں اور بغیر پھٹے ہوئے گولوں سے گزشتہ سال روزانہ تقریباً تین افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے، جو کہ اس سے پچھلے سال کے مقابلے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔میانمار میں سن 2021 میں فوج کے ذریعہ آنگ سان سوچی کی جمہوری طورپر منتخب حکومت کی معزولی نے نسلی گروپوں کے ساتھ ساتھ جمہوریت نواز پیپلز ڈیفینس فورسز” کے ساتھ ان علاقوں میں از سر نولڑائی کو جنم دیا ہے جو اس سے قبل دہائیوں سے تنازعات سے بچے ہوئے تھے۔اقوام متحدہ کے بچوں کے بہبود کے ادارے، یونیسیف نے سن 2023 کے دوران بارودی سرنگوں یا بغیر پھٹے ہوئے گولوں سے 1052 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔یہ تعداد سن 2022 میں ریکارڈ کیے گئے 390 واقعات کے مقابلے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ متاثرین میں سے 20 فیصد سے زیادہ بچے تھے۔جنو ب مشرقی ایشیائی ملک میانمار نے اقوام متحدہ کے اس کنونشن پر اب تک دستخط نہیں کیے ہیں جو انسانوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے بارودی سرنگوں کے استعمال، ذخیرہ اندوزی یا اس کی ترقی پر پابندی عائد کرتا ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اندرونی تنازعات کے درمیان میانمار کی فوج پر بارہا مظالم اور جنگی جرائم کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ موجودہ تنازع کے تمام فریق بارودی سرنگوں کا” اندھا دھند” استعمال کررہے ہیں۔