میں پانچ سال آرام کرلوں گا ۔ چیف منسٹر کے سی آر کا تین مقامات پر جلسوں سے خطاب
حیدرآباد ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ہندوستان کی تاریخ میں کسی ریاست میں 24 گھنٹے کی برقی باقاعدہ نہیں ہے سوائے تلنگانہ کے ۔ آج رعیتو بندھو صرف میرے ذہن کی اختراع ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں عوام کو گمراہ کرکے حصول اقتدار کی خاطر بی آر ایس پر تنقید کررہی ہیں ۔چیف منسٹر کے سی آر نے آج اپنی انتخابی مہم کا دوبارہ آغاز کرتے ہوئے اچم پیٹ، ونپرتی اور منوگوڑ میں تین بی آر ایس آشیرواد جلسوں سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسانوں کو با اختیار بناتے ہوئے دھرانی پورٹل کے ذریعہ کسانوں کی زمینات کا تحفظ کیا اور رجسٹریشن معاملات میں ہر منڈل پر زمین کی خرید و فروخت کو باقاعدہ بناکر عوام اور کسانوں کو جو سہولتیں مہیا کی ہیں اس کی مثال کسی اور ریاست میں نہیں ملتی ۔ میں نے حصول تلنگانہ کی جدوجہد کی تو مخالفین نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کہاں سے تلنگانہ آئے گا ؟ لیکن میری جدوجہد اور عوام کے محنت سے ہم نے تلنگانہ حاصل کیا اور دس سال میں برقی ، پانی اور کئی ایک ترقیاتی کام انجام دئیے ۔ اقلیتوں کیلئے اقلیتی اقامتی اسکول کا قیام اور عمارتوں کی تعمیر کو کیا عوام بھلاپائیں گے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ کانگریس کے 6 گیارنٹی کو دیکھ کر کرناٹک کے عوام کی طرح دھوکہ نہیں کھائیں اگر بی آر ایس پارٹی کو شکست ہوجاتی ہے تو وہ آرام کریں گے مگر نقصان تلنگانہ عوام کا ہوگا۔ دوبارہ دلالوں، پیروکاروں، بدعنوانیوں، عنڈہ گردی کے دور کا احیاء ہوگا، 24 گھنٹے سربراہ ہونے والی برقی 3 گھنٹوں تک محدود ہوجائے گی۔ دلت بندھو، ریتو بندھو کے علاوہ دیگر اسکیمات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ عوام 30 نومبر کو فیصلہ کریں کہ عوام کے ساتھ رہنے والی بی آر ایس چاہیئے یا کانگریس چاہیئے۔ بی آر ایس نے ریاست کے ہر طبقہ کی ترقی پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ترقیاتی کام انجام دینے والی بی آر ایس کے خلاف یہ کہا جارہا ہے کہ کوڑنگل سے مقابلہ کرو ؟ ہر کوئی چیالنج کرنے تیار ہوگیا ہے جبکہ تلنگانہ نے ہر شعبہ میں ترقی کی سمت گامزن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے پڑوسی ریاست کرناٹک میں صرف سیاسی مفاد پرستی کیلئے 5 گیارنٹی کا اعلان کرکے عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھائی اور کامیابی کے بعد وعدوں کو فراموش کردیا۔ کے سی آر نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں بھی 24 گھنٹے برقی سربراہ نہیں ہورہی ہے، آپ کے سامنے آئندہ چند دنوں میں بی جے پی کے چیف منسٹرس حاضر ہوں گے جو اپنی ریاست میں عوام کیلئے کچھ نہ کرنے والے چیف منسٹر یہاں پہنچ کر بی آر ایس حومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے ان سے بھی عوام کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ کانگریس اور بی جے پی پیسوں کے تھیلے لے کر انتخابات میں پہنچ رہی ہیں۔ اگر کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو ریاست کا مستقبل خطرے میں پڑ جائیگا۔ عوام کسی بہکاوے میں نہ آئیں خود فیصلہ کریں ۔ 10 سال پہلے تلنگانہ کی کیا صورتحال تھی علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد صورتحال کیا ہے اس کا جائزہ لیں پھر 30 نومبر کو بی آر ایس کو کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کوڑنگل کو آنے کا چیلنج کرنے والے ریونت ریڈی سے کہا کہ وہ کیا ہیں اور کیا کرسکتے ہیں ملک کے عوام جانتے ہیں، وہ اپنی طاقت کو ملک بھر میں منواچکے ہیں۔ن
راج گوپال ریڈی کی آج انگریس میں شمولیت
حیدرآباد26اکٹوبر ( یواین آئی) بی جے پی لیڈرکومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی جمعہ کو کانگریس میں شامل ہونگے جنہوں نے کل زعفرانی جماعت سے استعفی دے دیاتھا۔ذرائع کے مطابق راج گوپال ریڈی دہلی پہنچ گئے ہیں۔وہ کل قومی دارالحکومت میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور پارٹی کے سینئر لیڈر راہول گاندھی کی موجودگی میں کانگریس میں شامل ہوجائیں گے ۔