واشنگٹن ڈی سی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے نفرت نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ نظریاتی لڑائی ہے اور وہ یہ لڑائی لڑتے رہیں گے ۔یہاں جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹ سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ ان کی نظریاتی اور سیاسی لڑائی ہے اور وہ یہ لڑائی مسلسل لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں وزیراعظم مودی سے نفرت نہیں کرتا۔ ان کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے اور میں اس نقطہ نظر سے متفق نہیں ہوں، لیکن میں ان سے نفرت نہیں کرتا۔ ان کا زاویہ نظر مختلف ہے اور میرا زاویہ نظر الگ ہے ۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ نظریات کی لڑائی ہے اور ان کی لڑائی براہ راست آر ایس ایس سے ہے ۔ انڈیا الائنس ایک مضبوط بنیاد کے ساتھ اس خیال کے خلاف کھڑا ہوا اور اس نے عام انتخابات میں عوام کو صحیح پیغام دے کر اپنا مقصد حاصل کیا ہے ۔ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ لڑائی سیاسی نہیں بلکہ تمام مذاہب کی برابری کی بھی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں یہاں تمل ناڈو، پنجاب، ہریانہ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، کیرالہ اور مہاراشٹر کے لوگوں کی بات کہوں تو صرف نام نہیں بلکہ یہ تمام نام تاریخ، زبان اور روایات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہاں آر ایس ایس کہہ رہا ہے کہ کچھ ریاستیں، زبانیں، مذاہب اور برادریاں دوسروں سے کمتر ہیں۔ لیکن ہمارا ماننا ہے کہ ہر ریاست، روایت، مذہب، ثقافت اور زبان اہم ہے ۔ اگر تمل ناڈو کے کسی شخص سے کہا جائے کہ وہ تمل نہیں بول سکتا تو وہ کیسا محسوس کرے گا اور یہی آر ایس ایس کا نظریہ ہے جس سے میں براہ راست لڑ رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تمام لوگوں کو صدیوں سے جینے کی آزادی کی روایت رہی ہے لیکن یہ لوگ سمجھ نہیں پارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ لڑائی اس ہندوستان کے لیے ہے ، جسے ہم چاہتے ہیں ، جہاں لوگ اپنے اعتقاد ، کسی کا احترام کرنے اور اپنی پسند کے مطابق بولنے کے لئے آزاد ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ سب کچھ وہی طے کریں اور مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہندوستان کو نہیں سمجھتے ہیں۔
سکھوں پر تبصرہ: ہردیپ پوری کی راہول پر تنقید
نئی دہلی: مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے منگل کو کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی کے ہندوستان میں سکھوں کے بارے میں دیئے گئے تبصرے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وہ لاعلمی یا علم کی کمی کی وجہ سے ایسا کہہ رہے ہیں۔ مرکزی وزیر کا یہ ردعمل امریکہ کے دورہ کے دوران راہول کے اس تبصرے کے بعد آیا ہے ، جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں سکھوں کو ‘پگڑی’ اور ‘کڑا’ پہننے میں دشواری کا سامنا ہے ۔ آج یہاں بی جے پی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پوری نے کہا کہ جب وہ ( گاندھی) اس طرح کے موضوعات پر بات کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ وہ ان چیزوں پر ایک نیا، بلکہ خطرناک بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راہول پر بیرون ملک ہندوستان کی توہین کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب راہول گاندھی اپوزیشن کے لیڈر نہیں تھے ، تو انہوں نے اپنے الفاظ میں کبھی سختی نہیں دکھائی۔