نئی قومی سیاسی پارٹی کا چیف منسٹر کے سی آر آج اعلان کریں گے

,

   

آج جنرل باڈی اجلاس، عوامی نمائندوں و ضلعی صدور سے مشاورت کے بعد ایجنڈہ طئے ہوگا، قومی سیاست میں پہلی انٹری
حیدرآباد۔/4 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) قومی سیاست میں تلنگانہ سے ایک نئی پارٹی کا اضافہ ہونے جارہا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جو تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے صدر بھی ہیں کل 5 اکٹوبر کو دسہرہ کے موقع پر نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کریں گے۔ کے سی آر نے کل 11 بجے دن تلنگانہ بھون میں ٹی آر ایس کی جنرل باڈی میٹنگ طلب کی ہے جس میں ریاستی وزراء ، ارکان مقننہ، ضلعی صدور کے علاوہ ٹی آر ایس عاملہ کے قائدین شرکت کریں گے۔ اجلاس میں قومی پارٹی کے نام ، ایجنڈہ اور جھنڈا کو قطعیت دی جائے گی اور دوپہر 1:19 بجے کے سی آر نئی پارٹی کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ منوگوڑ ضمنی چناؤ کے شیڈول کی اجرائی کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ نئی پارٹی کے اعلان میں تاخیر ہوسکتی ہے لیکن چیف منسٹر نے خود بیان جاری کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ منوگوڑ ضمنی چناؤ کا جنرل باڈی میٹنگ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور ارکان کو اُلجھن میں مبتلاء ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ 283 قائدین کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام یعنی 2014 کے بعد سے قومی سیاست میں تلنگانہ سے یہ پہلی انٹری ہے۔ کے سی آر نے ہم خیال قومی اور علاقائی جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کے بعد قومی پارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے خانگی اداروں کے ذریعہ بعض ریاستوں میں سروے کا اہتمام کیا تاکہ نئی قومی پارٹی کے امکانات اور عوامی تائید کا جائزہ لیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی علاقائی جماعتوں نے ٹی آر ایس کو قومی پارٹی کے طور پر بی آر ایس میں تبدیل کرنے کی تائید کی ہے۔ قومی سیاست کے مسئلہ پر کے سی آر اگرچہ پارٹی قائدین سے پہلے بھی مشاورت کرچکے ہیں لیکن کل کا جنرل باڈی اجلاس اس سلسلہ کی آخری کڑی ہوگا جس میں پارٹی کے ایجنڈہ اور نام کا اعلان کیا جائے گا۔ قائدین سے پارٹی کے جھنڈا اور انتخابی نشان کے بارے میں رائے حاصل کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے قریبی رفقاء کے ذریعہ جن ریاستوں میں سروے کا اہتمام کیا وہاں کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے مکمل تائید کا اظہار کیا گیا ہے۔ کے سی آر کسانوں کی تنظیموں کے قائدین سے مسلسل ربط میں ہیں۔ جنوبی ہند سے سابق میں بھی قومی سیاست میں حصہ لینے کے تجربات کئے جاچکے ہیں لیکن یہ کامیاب نہیں ہوئے۔ این ٹی راما راؤ نے اپنی غیر معمولی مقبولیت کے باوجود قومی سطح پر اسے منوانے میں ناکام رہے تھے۔ کرناٹک میں سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کی پارٹی جنتا دل سیکولر کو کرناٹک کے علاوہ کسی اور ریاست میں قدم جمانے کا موقع نہیں مل سکا۔ ٹاملناڈو میں علاقائی جماعتوں کا غلبہ برقرار ہے اور وہاں قومی جماعتوں کو کبھی بھی اقتدار حاصل نہیں ہوا۔ آندھرا پردیش میں چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت تلگو دیشم پارٹی کو قومی پارٹی میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن یہ تجربہ بھی کامیاب ہوتا دکھائی نہیںدیتا۔ آج تک تلگودیشم کی تلنگانہ میں موجودگی کو ثابت کرنے میں پارٹی ناکام رہی ہے۔ کے سی آر کی جانب سے قومی سیاست میں حصہ لینے کے فیصلہ پر اگرچہ پارٹی کے سینئر قائدین کی رائے منقسم ہے لیکن کوئی بھی اس مسئلہ پر کھل کر اظہار خیال کرنے تیار نہیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ملک کی بعض کسان تنظیموں کے قائدین کو دسہرہ کے دن مشاورت کی دعوت دی ہے۔ر