غزہ : غزہ میں ایک نازک جنگ بندی کے فریم ورک کے اندر قیدیوں کے تبادلے کے ایک حصے کے طور پر حماس کی طرف سے چار اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرنے کے کچھ ہی دیر بعدسینکڑوں فلسطینیوں کی رہائی شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب حماس نے جنگ بندی کے معاہدے اور مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کے لیے اپنی تیاری کی تصدیق کی ہے۔حماس نے جمعرات کی صبح ایک بیان میں اعلان کیا کہ پٹی میں باقی ماندہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کا واحد راستہ جنگ بندی معاہدے پر عمل کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ دوسرے مرحلے کے مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ اسرائیل کو 4 اسرائیلیوں کی باقیات لے جانے والے تابوت موصول ہوئے ہیں۔ یہ لاشیں تزاچی ایڈان، اتزیک ایلگارات، اوہاد یاہلومی اور شلومو منتسور کی ہیں جنہیں 7 اکتوبر 2023ء کے حملے میں گرفتار کیے گئے تھے۔انہوں نے ایک بیان میں لاشوں کی شناخت کے لیے ان کی فی الحال ابتدائی جانچ کی جا رہی ہے۔ پھر یہ عمل مکمل ہونے کے بعد ان کے اہل خانہ کو باضابطہ اطلاع بھیج دی جائے گی۔یہ فلسطینی قیدیوں کی 12 بسوں میں غزہ کے جنوب میں واقع خان یونس کے یورپی اسپتال پہنچنے اور 97 فلسطینی قیدیوں کو مصر پہنچانے کے لیے رفح کراسنگ سے بیرون ملک منتقل کیا جائے گا۔حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ رہا کیے جانے والے فلسطینیوں میں 445 مرد، 24 خواتین اور نابالغ شامل ہیں جنہیں غزہ سے گرفتار کیا گیا تھا، اس کے علاوہ 151 دیگر قیدی اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔
نائل برغوثی:طویل ترین عرصہ کا سیاسی قیدی اسرائیلی جیل سے رہا
غزہ: دنیا کے سب سے طویل عرصے تک قید رہنے والے سیاسی قیدی نائل برغوثی کو بالآخر اسرائیلی جیل سے رہائی مل گئی۔فلسطینی میڈیا کے مطابق
44 سال سے زائد عرصہ اسرائیلی جیلوں میں گزارنے کے بعد وہ گزشتہ روز حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے میں رہا ہوئے ۔گزشتہ دنوں ان کے خاندان نے نائل برغوثی کی رہائی کی تصدیق کی تھی، تاہم ان کے اہل خانہ نے بتایا تھا کہ انہیں فلسطین سے جلاوطن کر دیا جائے گا۔نائل برغوثی کی رہائی ان کیلئے ایک خوشی کا لمحہ ہے لیکن جلاوطنی کا فیصلہ اس خوشی کم کردیتاہے ۔ وہ اپنے گاؤں کوبر واپس نہیں جا سکیں گے کیونکہ انہیں مصر جلا وطن کردیا گیا ہے ۔خیال رہے کہ اسرائیلی انٹیلیجنس نے نائل برغوثی کی اہلیہ کو ان کے استقبال کیلئے مصر جانے سے بھی روک دیا اور نائل برغوثی نے رہائی کے بعد ویڈیو کال پر اہل خانہ سے بات کی۔اپنی رہائی کے بعد الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے نائل برغوثی نے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی حالت زار کے بارے میں بتایا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے قیدیوں پر شدید تشدد کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں قیدیوں کو شدید چوٹیں آتی ہیں اور ان کی ہڈیاں بھی فریکچر ہوجاتی ہیں۔فلسطینی میڈیا کے مطابق 23 اکتوبر 1957 کو رام اللہ کے شمال میں واقع گاؤں کوبر میں پیدا ہونے والے نائل برغوثی صرف 20 سال کے تھے جب 1978 میں اسرائیلی افواج نے انہیں گرفتار کیا۔ان پر ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک کرنے کا الزام لگا کر عمر قید اور 18 سال اضافی قید کی سزا سنائی گئی، آئندہ برسوں کے دوران کئی سیاسی تبدیلیاں آتی رہیں لیکن نائل برغوثی مسلسل قید میں رہے ۔2011 میں انہیں وفا الاحرار نامی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کر دیا گیا-
یہ معاہدہ اسرائیلی فوجی جیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے ہوا تھا اور اسی معاہدے کے تحت مستقبل میں حماس کے سربراہ بننے والے یحییٰ سنوار شہید کو اسرائیلی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔رہائی کے بعد انہوں نے سابق فلسطینی قیدی ایمان نافع سے شادی کی اور اپنی زندگی کو ازسر نو شروع کیا، تاہم 2014 میں اسرائیلی فورسز نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔ ان کے ساتھ کئی دیگر افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا جو وفا الاحرار معاہدے کے تحت رہا ہوئے تھے ۔ اسرائیلی حکام نے ان کی پرانی عمر قید کی سزا بحال کر دی باوجود اس کے کہ وہ پہلے ہی کئی دہائیوں تک قید کاٹ چکے تھے ۔فلسطینی میڈیا کے مطابق گزشتہ 10 برسوں میں نائل برغوثی فلسطینی جدوجہد کا استعارہ بن گئے ، ان کی کہانی ان ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی نمائندگی کرتی ہے جو اسرائیلی جیلوں میں سخت فوجی قوانین کے تحت قید ہیں۔