مولانا شاہ جمال الرحمن اور محمد علی شبیر کی شرکت، ہائی وے کے مسافرین کو سہولت
حیدرآباد: ممتاز عالم دین مولانا شاہ محمد جمال الرحمن نے میدک ضلع کے نارسنگی کے قریب شیو نور گاؤں میں عالیشان مسجد اور قرآن ریسرچ سنٹر کا افتتاح انجام دیا۔ سابق وزیر محمد علی شبیر اور کئی نمائندہ مذہبی ، سیاسی اور سماجی شخصیتوں نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ یہ عالیشان مسجد نیشنل ہائی وے 44 پر تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد اور قرآن ریسرچ سنٹر 4 ایکر اراضی پر محیط ہے۔ مغل اور ترکی طرز تعمیر کو اختیار کرتے ہوئے افغانستان کی مساجد کی طرح مسجد بی بی جان کی تعمیر عمل میں لائی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد سے متصل کامپلکس میں قرآن ریسرچ سنٹر ، رہائشی ہاسٹل اور دیگر سہولتیں موجود رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی شاہراہ 44 پر سفر کرنے والے افراد کیلئے اس مسجد میں واش روم اور ڈائننگ کی سہولت موجود ہے۔ خواتین کیلئے علحدہ انتظام کیا گیا ہے ۔ بودھن ، نرمل، نظام آباد اور عادل آباد سفر کرنے والے افراد اس مسجد میں نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ قرآن ریسرچ فاؤنڈیشن کے ذریعہ نامور اسکالرس کو مقرر کرتے ہوئے قرآنی تعلیم کو عام کیا جائے گا۔ غوری خاندان نے مسجد کی اراضی بطور عطیہ دی ہے ۔ شاہد غوری اور منظور غوری نے تعمیر میں اہم رول ادا کیا۔ نماز ظہر سے مسجد کا افتتاح عمل میں آیا ۔ اس موقع پر محمد علی شبیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لئے عصری تعلیم اور قرآنی تعلیم کی بے حد ضرورت ہے۔ ریاستی وزیر کی حیثیت سے انہوں نے کئی مدارس کو عصری بنانے کا کام کیا تھا ۔ سکریٹریٹ کی مسجد ہاشمی اور مسجد دفاتر معتمدی کی تعمیر نو میں محمد علی شبیر کا اہم رول رہا ۔ مولانا شاہ جمال الرحمن نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو نماز کی پابندی کی تلقین کی ۔ انہوں نے کہا کہ سماج میں امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی برقراری ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر ٹی آر ایس رکن کونسل فاروق حسین ، آرکیٹکٹ محمد انیس ، نواب احمد عالم خاں ، برکت عالم خاں ، صدرنشین مستقطی گروپ عرفان مسقطی ، رفیق یمنی (آغا خاں فاؤنڈیشن) کے علاوہ کئی معززین کنے شرکت کی ۔