ناروے کے سفیر سے سفارتی درجہ واپس لینے پر امریکہ کی اسرائیل پر تنقید

   

واشنگٹن: فلسطینی اتھارٹی کیلئے ناروے کے سفیر سے سفارتی درجہ واپس لیے جانے پر اسرائیل کو امریکہ کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔امریکہ کی طرف سے جمعرات کے روز اپنے اتحادی اسرائیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے امریکی ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے ‘ شرق اوسط میں ناروے کا کردار بہت اہم اور مفید رہا ہے۔’ان کا رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ‘ناروے کا ایک طویل عرصے سے اسرائیل کی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان رابطوں اور معاملات طے کرنے میں نمایاں حصہ رہا ہے۔ اس لیے ہم نہیں سمجھتے کہ ناروے کے سفیر کو اس طرح ان کی ذمہ داریاں انجام دینے سے روکنا مفید اور بہتری کیلئے ہو سکتا ہے۔’امریکی ترجمان میتھیو ملر نے ناروے کے امریکہ اور مشرق وسطی کیلئے کردار کو سراہتے ہوئے کہا اسی کی کوششوں سے 1993 میں اوسلو معاہدہ ممکن ہوا تھا اور وائٹ ہاؤس میں معاہدے کیلئے رہنما جمع ہوئے تھے جبکہ ابھی حال ہی میں محصولات کی وصولی اور تقسیم کے سلسلے میں بھی ناروے کا کردار رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ جن ملکوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے ان کو سزا دینا ضروری ہے۔ واضح رہے ان ملکوں می سپین اور آئرلینڈ بھی شامل ہیں۔امریکہ کے مطابق وہ سمجھتا ہے کہ فلسطینی ریاست کو اس طرح تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ مگر اسرائیل کو ان ملکوں کو سزا نہیں دینی چاہیے بلکہ ان سے بات چیت اور مذاکرات کرنے چاہئیں۔