نامپلی میں بوگس رائے دہی کے ذریعہ کامیابی کا مجلس کا منصوبہ: فیروز خاں

   

بی آر ایس، مجلس اور بی جے پی متحد، حیدرآباد میں کانگریس کی مقبولیت سے بوکھلاہٹ
حیدرآباد۔/15 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کے نامپلی اور صنعت نگر اسمبلی حلقہ جات کے امیدواروں محمد فیروز خاں اور کے نیلماں نے الزام عائد کیاکہ بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فیروز خاں نے الزام عائد کیا کہ نامپلی اور دیگر اسمبلی حلقہ جات میں کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے مجلس خوفزدہ ہے اور اسے مستقبل میں شکست کا خوف لاحق ہوچکا ہے لہذا کانگریس امیدواروں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کو برسراقتدار آنے سے روکنے کیلئے تینوں پارٹیاں منظم سازش کررہی ہیں۔ فیروز خاں نے کہا کہ شراب اسکام میں چیف منسٹر کی دختر کویتا کا نام آتے ہی بی جے پی کے ساتھ مفاہمت کرلی گئی۔ ریاست میں کے سی آر اور مرکز میں بی جے پی اقتدار کا معاہدہ کیا گیا۔ فیروز خاں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح مجلس کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں اثر و رسوخ کا دعویٰ کرنے والی مجلسی قیادت 10 نشستوں پر مقابلہ سے قاصر ہے جبکہ اتر پردیش میں 100 نشستوں پر مقابلہ کیا گیا۔ دیگر ریاستوں میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے مجلس اپنے امیدوار کھڑے کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامپلی میں مجلس، بی جے پی اور بی آر ایس مشترکہ طور پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ گوشہ محل میں راجہ سنگھ کے خلاف امیدوار کیوں کھڑا نہیں کیا گیا اور کے سی آر گوشہ محل میں بی آر ایس کی انتخابی مہم کیوں نہیں چلارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ووٹ تقسیم کرتے ہوئے گوشہ محل میں راجہ سنگھ کو کامیاب کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامپلی میں بوگس رائے دہی کے ذریعہ کامیابی کا منصوبہ ہے۔ کے نیلماں نے کہا کہ صنعت نگر میں کانگریس کے خلاف بی جے پی اور بی آر ایس متحد ہوچکے ہیں اور عوام اس اتحاد کو محسوس کرتے ہوئے کانگریس کی تائید کررہے ہیں۔ بنسی لال پیٹ اور صنعت نگر میں غریبوں کو الاٹ کردہ ڈبل بیڈ روم مکانات خستہ حالت میں ہیں۔