ناگپور کی خصوصی ٹیم کی رپورٹ، ڈیٹا ناقابل بازیابی، فون ٹیاپنگ کے شواہد بھی شامل
حیدرآباد 21 فبروری (سیاست نیوز) نامپلی فارنسک سائنس لیاب میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعہ میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ناگپور سے آئی خصوصی فارنسک ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا ہیکہ آتشزدگی کے نتیجہ میں تقریباً 1100 فائلس جل کر خاک ہوگئیں۔ جلی ہوئی فائلوں کو دوبارہ پرانی حالت میں بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ تاہم ان میں محفوظ ڈیٹا کی بازیابی ممکن نہ ہوسکی۔ واضح رہیکہ یہ واقعہ 7 فبروری کو اس وقت پیش آیا جب لیاب کی عمارت کی پہلی منزل پر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور متعلقہ حکام موقع پر پہنچ گئے اور آگ پر قابو پالیا گیا۔ تاہم تب تک بڑی تعداد میں اہم ریکارڈ جل چکا تھا۔ خصوصی ٹیم کی رپورٹ کے
مطابق پولیس کی جانب سے ضبط کئے گئے تقریباً 50 کمپیوٹرس اور ہارڈ ڈسکس بھی متاثر ہوئے جن میں سنگین جرائم سے متعلق تکنیکی شواہد محفوظ تھے۔ ذرائع کے مطابق جلنے والی فائلوں میں حساس مقدمے کے اہم سائنسی ثبوت بھی شامل تھے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست میں سنسنی پھیلانے والے فون ٹیاپنگ کیس سے متعلق فارنسک شواہد بھی اس آتشزدگی میں تباہ ہوگئے ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ متاثرہ فائلوں میں کن کن مقدمات کے ریکارڈس شامل تھے۔ فارنسک سائنس لیاب ریاست میں مجرمانہ تحقیقات کا اہم مرکز مانی جاتی ہے جہاں قتل، ڈکیتی، جنسی ہراسانیوں، دھوکہ دہی اور دیگر سنگین جرائم سے متعلق ثبوتوں کا سائنسی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ جائے واردات سے حاصل کئے گئے نمونے جیسے فنگر پرنٹس، خون، بال اور ڈی این اے کی جانچ اسی لیاب میں کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اسلحہ و گولیوں، زہریلے مادوں، منشیات، چرس، ہیروئن، دستخطوں اور جعلی دستاویزات کی بھی یہاں سائنسی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ آتشزدگی کے اس واقعہ نے ریاست میں جاری کئی حساس تحقیقات پر سوالیہ نشان کھڑا کردئے ہیں۔ حکام نے واقعہ کی وجوہات جاننے اور نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے کیلئے مزید تحقیقات شروع کردی ہے۔ع