ٹی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی کی تیاریاں، جانا ریڈی کے دوبارہ مقابلہ کا امکان
حیدرآباد: ناگرجنا ساگراسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کی تیاریوں کے سلسلہ میں اہم جماعتیں ذات پات کی بنیاد پر رائے دہندوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ٹی آر ایس رکن اسمبلی این نرسمہیا کے دیہانت کے سبب اس حلقہ میں ضمنی چناؤ یقینی ہوچکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اگرچہ انتخابی شیڈول کا اعلان نہیں کیا ۔ تاہم ٹی آر ایس اور کانگریس نے انتخابی حکمت عملی پر غور و خوض شروع کردیا ہے ۔ اس حلقہ میں ایس سی اور ایس ٹی ووٹرس فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 50,000 کے قریب ایس سی ، ایس ٹی رائے دہندے ہیں اور وہ جس کسی پارٹی کی تائید کریں کامیابی اس کا مقدر بن جائے گی ۔ 2018 ء کے اسمبلی انتخابات میں ایس سی ، ایس ٹی رائے دہندے ٹی آر ایس اور کانگریس کے درمیان منقسم ہوگئے تھے ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ضمنی چناؤ کی صورت میں ایس سی ، ایس ٹی رائے دہندے بادشاہ گر کے موقف میں رہیں گے کیونکہ اس مرتبہ بی جے پی بھی زور آزمائی کرے گی۔ ناگرجنا ساگر حلقہ بنیادی طور پر کانگریس کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے جس کی نمائندگی سینئر قائد کے جانا ریڈی کرچکے ہیں۔ 2018 ء میں انہیں معمولی اکثریت سے ٹی آر ایس امیدوار نے شکست دی تھی ۔ این نرسمہیا کو 83655 ووٹ حاصل ہوئے تھے جبکہ جانا ریڈی کے حق میں 75884 ووٹ رہے۔ بی جے پی امیدوار کو محض 2675 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ دوباک اور گریٹر حیدرآباد کے انتخابات میں بی جے پی کے بہتر مظاہرہ کے بعد ناگرجنا ساگر میں سہ رخی مقابلہ کا امکان ہے ۔ کے جانا ریڈی 1983 ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پہلی مرتبہ اس حلقہ سے منتخب ہوئے تھے ۔ 1985 ء میں وہ تلگو دیشم کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے جبکہ 1989 ، 1999 ، 2004 ، 2009 اور 2014 میں کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوچکے ہیں۔ کانگریس پارٹی ضمنی چناؤ میں انہیں امیدوار بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے جبکہ بی جے پی نے جانا ریڈی اور ان کے فرزند کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ ٹی آر ایس نے نرسمہیا کے فرزند یا پھر قانون ساز کونسل کے صدرنشین سکھیندر ریڈی میں سے کسی ایک کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد چیف منسٹر مقامی قائدین سے مشاور کے بعد یہ فیصلہ کریں گے ۔ ناگرجنا ساگر سابق میں چلکرتی اسمبلی حلقہ کا حصہ تھا اور 2009 ء میں از سر نو حدبندی کے بعد نیا حلقہ تشکیل پایا ہے۔