نئی دہلی : سپریم کورٹ نے نراڈا کیس میں مغربی بنگال سرکار کے حلف نامے کو ریکارڈ میں لینے سے انکار کرنے کے کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم کو آجنظر انداز کردیا۔عدالت اعظمیٰ نے متعلقہ حلف نامہ وقت پر داخل نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرنے کی ریاستی حکومت ، وزیر اعلی ممتا بنرجی اور وزیر قانون ما لیا گھٹک کو اجازت دے دی ۔ جسٹس ونییت سرن اور جسٹس دنیش مہیشوری کی بنچ نے ان سبھی کو 28 جون تک عرضیاں داخل کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے /9 جون کے حکم کو مسترد کردیا ۔
تاکہ عرضیوں کا داخل کیا جانا یقینی بنایا جاسکے ۔سپریم کورٹ نے عرضی گزاروں کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ سی بی آئی کو 27 جون تک اپنی عرضیوں کی کاپیاں دستیاب کرائیں ۔ بینچ نے ساتھ ہی ہائی کورٹ کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ حلف ناموں میں کو قبول کرنے کی عرضی پر سماعت کے لئے مقررہ تاریخ پر غور کرے ۔ محترمہ بنرجی اور مسٹر گھٹک نے کلکتہ ہائی کورٹ کے نو جون کے اس حکم کے خلاف عدالت عظمی سے رجوع کیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے نوجون کو نارد سٹنگ ٹیپ معاملے کو منتقل کرنے کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی عرضی پر سماعت کے دوران ان کے حلف نامے ریکارڈ میں لینے سے انکار کردیا تھا۔