حلقہ میں خواتین رائے دہندوں کی تعداد زیادہ ، انتخابی سرگرمیاں عروج پر
نرمل ۔22 نومبر ۔ ( سید جلیل ازہر کی رپورٹ ) حلقہ اسمبلی نرمل میں اس مرتبہ سہ رُخی مقابلہ کا امکان ہے جبکہ حکمران جماعت کے موجودہ وزیر جنگلات اے اندرا کرن ریڈی پھر ایک بار بی آر ایس کے اُمیدوار ہیں اور وہ اپنی پارٹی کی کارکردگی اور خود کی جانب سے حلقہ اسمبلی نرمل میں کئے گئے ترقیاتی کاموں کے سبب اس حلقہ میں ایک طاقتور اُمیدوار کی حیثیت سے سیاسی پس منظر میں نمایاں شخصیت بن کر اُبھریں ہیں ۔ اُن کا یقین ہے کہ وہ اس بار تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے سیاسی ہیٹ ٹرک کی جانب گامزن رہیں گے ۔ مسٹر اندرا کرن ریڈی سابق میں صدرنشین ضلع پریشد کے علاوہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے بھی متحدہ ضلع عادل آباد میں کافی سیاسی مقبولیت حاصل کی تھی ۔ اُن کا حُسن سلوک ہمیشہ کامیابی کا ضامن رہا ہے۔ دوسری طرف کانگریس کے امیدوار کے سری ہری راؤ جنھوں نے ٹی آر ایس کے قیام سے ہی پارٹی میں اپنی خدمات جاری رکھی تھیں۔ گزشتہ چند ماہ سے سری ہری راؤ پارٹی کی سرگرمیوں سے دور رہے جبکہ انتخابی اعلامیہ سے ایک ماہ قبل انھوں نے کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور انھیں صدر ضلع نرمل کانگریس کے ساتھ ساتھ حلقہ اسمبلی نرمل سے کانگریس کا امیدوار بنایا گیا ۔ مسٹر راؤ کو کانگریس کی چھ گیارنٹی اسکیمات پر بھروسہ ہے وہ مسلسل بلدی حدود اور دہی علاقوں میں اپنی انتخابی مہم چلارہے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سے الیٹی مہیشور ریڈی ہیں جو 2014 اور 2018 ء میں کانگریس پارٹی سے اندرا کرن ریڈی کے مقابلہ الیکشن ہار گئے بعد ازاں انھوں نے بھی انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے چند ماہ قبل بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اب حلقہ اسمبلی نرمل سے بحیثیت بھارتیہ جنتا پارٹی امیدوار انتخابی میدان میں ہیں ۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ حلقہ اسمبلی نرمل میں مسلم ووٹ فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں ۔ ساتھ ہی اس اسمبلی حلقہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس اسمبلی حلقہ میں مرد رائے دہندوں کے مقابلہ خواتین رائے دہندوں کی تعداد زیادہ ہے۔ حلقہ اسمبلی نرمل کے جملہ رائے دہندوں کی تعداد (2,53,551) ہے جبکہ مرد رائے دہندوں کی تعداد (1,20,365) اور خاتون رائے دہندوں کی تعداد (1,32,925) ہے ۔ تمام پارٹیوں نے اپنی اپنی انتخابی مہم میں تیزی پیدا کردی ہے جبکہ رائے دہی کے لئے صرف ایک ہفتہ باقی ہے۔