نرمل کے ایس نرنجن ریڈی، آندھرا پردیش سے رکن راجیہ سبھا منتخب

   

عوام میں مقبول سپریم کورٹ ایڈوکیٹ کو مختلف گوشوں سے مبارکباد اور نیک تمنائیں

نرمل ۔ مستقر نرمل ضلع کے مشہور و معروف ایڈوکیٹ ایس نرنجن ریڈی کو آندھرا پردیش سے واجیہ سبھا کے لئے منتخب کئے جانے پر نرمل کے عوام میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ آج جیسے ہی ٹی وی پر ایس نرنجن ریڈی کے نام کا اعلان ہوا۔ مقامی لوگوں میں زبردست خوشی و مسرت دیکھی گئی اور نرنجن ریڈی کو فون پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اخبارات کے نمائندوں کو بھی مبارکباد دینے کے لئے مسلسل فون کالس موصول ہوئے۔ نمائندہ سیاست جلیل ازہر نے بھی مسٹر نرنجن ریڈی کو مبارکباد دی اور فون پر انہوںنے اپنی تفصیلی سفر کی مختصر تفصیلات بتائی۔ وہ اس وقت سپریم کورٹ میں سینئر ایڈوکیٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی پیدائش 22 جولائی 1970 ء کو کسان گھرانہ میں ہوئی جبکہ ان کے والد آنجہانی ایس ودیا ساگر ریڈی بھی ایڈوکیٹ رہ چکے ہیں۔ مسٹر نرنجن ریڈی مہاراشٹرا کے شہر پونے سے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔ حیدرآباد ہائی کورٹ میں خدمات انجام دیتے ہوئے بہت ہی کم وقت میں اپنی قابلیت کا لوہا منواتے ہوئے انہوں نے کافی مقبولیت حاصل کی۔ آندھرا پردیش میں راجیہ سبھا کی نشست پر انتخاب نرمل کی عوام کیلئے باعث فخر ہے۔ نرمل صدر نشین بلدیہ مسٹر جی ایشورا رام کشن ریڈی سابق ڈی سی سی بی چیرمین اور کئی قائدین نے مسٹر نرنجن ریڈی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ یقینا قسمت کب کس کے گھر کی دہلیز پر دستک دے یہ تو صرف اوپر والا ہی جانتا ہے۔ بہت خوش نصیب ہے ایس نرنجن ریڈی جنہوں نے اپنی عمر کے 52 برس بھی مکمل نہیں کئے پیشہ وکالت میں زبردست شہرت حاصل کی تھی، آج راجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کے یہ بہت ہی قریبی رفیق ہیں۔