حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق رکن نوشاد اعظمی کا وزیراعظم اور کرن رجیجو کو مکتوب
نئی دہلی: حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق رکنحافظ نوشاد احمد اعظمی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور اقلیتی فلاح وبہود کے مرکزی وزیر کرن رجیجو کو خط لکھ کر حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل نو کا مودی سے مطالبہ کہا ہے ۔اس سلسلے میں اعظمی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اور اقلیتی فلاح وبہود کے مرکزی وزیر کرن رجیجوکو عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل کرنے کے سلسلے میں خط لکھا ہے جس کی کاپی پریس کو جاری کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 12 اپریل کو عدالت عظمیٰ میں وزارت کے سکریٹری نے حلف نامہ میں یہ کہا تھا کہ 3 اپریل2024کو چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا راجیو کمار کو خط لکھ کر حج کمیٹی آف انڈیا کا الیکشن کرانے کی اجازت مانگی تھی واضح رہے کہ 6 جو ن کوانتخابی ضابطہ اخلاق بھی ختم ہوگیا اور اس سلسلے میں اب تک وزارت کی طرف سے کوئی نوٹیفیکشن یاسرکولر جاری نہیں ہوا ہے نہ تو وزارت کی ویب سائٹ پر ہے یاد رہے کہ 6 ممبر ان 6 زون سے منتخب ہوکر آئیں گے جن کا انتخاب ملک کی سبھی اسٹیٹ حج کمیٹیاں مل کر کریں گی صوبائی حج کمیٹیوں کی بھی تشکیل کی ذمہ داری ایکٹ کی دفعہ 17 میں مرکزی وزارت کی ذمہ داری لکھی ہوئی ہے ۔اعظمی نے آج بہت افسوس کے ساتھ کہا کہ ہمارے توہین عدالت کی عرضی پر 29 اپریل کو چیف جسٹس سربراہی والی بنچ نے 31 اگست سے پہلے حج ایکٹ میں لکھے ہردفعہ کے تحت پوری کمیٹی تشکیل کرنے کے لیے وزارت کو سخت ہدایات جاری کی مگر اس سلسلے میں اب تک وزارت اقلیتی فلاح وبہبود نے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی جو بہت افسوس ناک ہے ۔اعظمی نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایکٹ کے مطابق 20 فروری 2020 کو ہی حج کمیٹی آف انڈیا کی تشکیل ہوجانی چاہیے تھی جو وزارت نے نہیں کی اور مجبور ہوکر ہمیں اکتوبر 2021 میں سپریم کورٹ میں دستک دینا پڑا۔ وزارت نے یکم اپریل 2022 کو ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلم قانون داں کے کوٹہ میں غیر مفتی عبداللہ کٹی کو نامز د کیا ساتھ ہی ساتھ شیعہ مسلم قانون داں کوٹہ میں ضیائالدین زوری کونامزد کیا جو شیعہ ہیں ہی نہیں جبکہ ایکٹ میں لفظ شیعہ صاف صاف لکھا ہے اس طرح ایک ممبر راجیہ سبھا کوٹہ سے ظفرالاسلام کو نامزد کیا جو ستمبر 2021 سے ہی یوپی حج کمیٹی میں راجیہ سبھا کوٹہ سے نمائندگی کررہے تھے اسی طرح ایکٹ کی دھجی اڑاتے ہوئے وزارت نے 8 ممبران میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کا الیکشن بھی کرایا جو پوری طرح غیر قانونی ثابت ہوا۔ اعظمی نے خط میں لکھا ہے کہ 19 ممبران کو ایکٹ کے مطابق ووٹ دینے اور الیکشن لڑنے کا حق ہے اس لیے 19 ممبران کا انتخاب اور نامزدگی کرکے باقاعدہ طور سے شفافیت کے ساتھ 31 اگست سے پہلے انتخاب کرکے پوری کمیٹی تشکیل کرلی جائے ۔