مودی چاہتے ہیں کے سی آر چیف منسٹر رہیں اور کے سی آر چاہتے ہیں مودی وزیراعظم رہیں‘ بی جے پی ۔ بی آر ایس اور مجلس ایک ہیں
عادل آباد 25 نومبر : ( سیاست نیوز ) : کانگریس نے اپنے دورہ اقتدار میں زمین تقسیم کرنے کا کام کیا تھا آج تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر نے دھرانی پورٹل کے ذریعہ کسانوں کی زمین چھین لی ۔ اگر یہ حکومت پھر آئے گی تو عوام کے پاس زمین باقی نہیں رہے گی۔ ان خیالات کا اظہار آج عادل آباد میں حلقہ اسمبلی عادل آباد کے کانگریس امیدوار سرینواس ریڈی کے انتخابی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کیا ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر نے جس اسکول اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے وہ کانگریس کی بنائی ہوئی ہے ۔ حیدرآباد میں آئی ٹی کا قیام کانگریس کا کارنامہ ہے ۔ آوٹر رنگ روڈ بھی کانگریس نے بنائی ہے ، کے سی آر جس ہوائی اڈہ سے ہوئی جہاز میں اڑان بھرتے ہیں وہ بھی کانگریس حکومت نے بنائی ہے ۔ آج جس ریاست میں کے سی آر اور ان کی کابینہ کے وزراء عوام کو لوٹ رہے ہیں وہ تلنگانہ سونیا گاندھی کے فیصلے کی مرہون منت ہے ۔ جس کو تلنگانہ کے عوام کی قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا تھا ۔ آج تلنگانہ کی کیا حالت ہے یہ عوام خود دیکھ رہے ہیں ۔ جتنا پیسہ کے سی آر نے عوام کا لوٹا ہے کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد لوٹا ہوا پیسہ غریبوں کو واپس کرنے کے اقدام کریگی ۔ راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت مودی جی کے ہیں ’ دو یار اویسی اور کے سی آر ‘ اس لیے کہ چیف منسٹر کے سی آر دہلی میں مودی کی مدد کرتے ہیں جس کو کئی مرتبہ ہم سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ جی ایس ٹی ہو ، طلاق کا بل ہو ، ہر بل پر ان کی یہ مدد کرتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ آج کے سی آر چاہتے ہیں کہ دہلی میں مودی کی سرکار رہے اور مودی چاہتے ہیں کہ تلنگانہ میں کے سی آر کی ہی حکومت قائم ہو ۔ یہ دونوں کی ملی بھگت ہے لیکن راہول گاندھی مودی سے لڑتا رہے گا تا وقتیکہ مودی کی سوچ میں بدلاؤ نہیں آئے گا ۔ میری رکنیت ختم کردی گئی ۔ میرا گھر مجھ سے واپس لے لیا گیا ۔ میں نے بھی خوشی سے گھر کی چابیاں حوالہ کردیں کیوں کہ ہندوستان میں میرے کروڑوں گھر ہیں غریب عوام کے دلوں میں رہتا ہوں ۔ مودی میں یہ ہمت نہیں کہ چیف منسٹر تلنگانہ کا گھر چھین سکے اگر کے سی آر کا گھر گیا تو تمام بدعنوانیاں بے نقاب ہوجائیں گی ۔ اگر کے سی آر ان سے آنکھ ملانے کی کوشش بھی کریں تو مودی کے پاس تین بٹن ہے ED ، سی بی آئی ، آئی ٹی ، کوئی بھی بٹن دکھاتے ہی کے سی آر بیٹھ جاتے ہیں ۔ چار ماہ میں گاڑی کے چار ٹائروں سے ہوا نکل گئی ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وہ عوام اپیل کرتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے یہاں سے کے سی آر اور دہلی سے نریندر مودی کو نکالنے کا ۔ ہم جن چھ ضمانتوں کے انتخابی منشور کے ساتھ آپ سے رجوع ہورہے ہیں یہ ضمانتیں کانگریس کے اقتدار میں آتے ہی کابینہ کی پہلی میٹنگ میں قانون کی شکل اختیار کرلیں گی کیوں کہ کانگریس وعدوں پر عمل کرتی ہے ۔ آج کانگریس کی مخالفت کیلئے کے سی آر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ حیدرآباد کی جماعت مجلس بھی شامل ہوگئی جو ہمیں شکست دینے اور ووٹوں کو تقسیم کرنے کبھی گجرات کبھی راجستھان کبھی مہاراشٹرا پہونچ جاتی ہے ۔ کانگریس کا ایک ہی مقصد ہے سونیا گاندھی نے تلنگانہ کے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میں لائی تھی ۔ اس کی ترقی بھی کانگریس کی حکمرانی میں ہوگی ۔ سب سے پہلے کسان اپنے دل سے ڈر کو نکالیں دھرانی پورٹل کی تمام دھاندلیاں بے نقاب کی جائیں گی ۔