کلکتہ12جون (سیاست ڈاٹ کام)دنیا بھر میں نسل پرستی کے خلاف مظاہروں اور احتجاج کے دوران مغربی بنگال حکومت نے مشرقی بردوان ضلع میں نسل پرستی کو فروغ دینے کے الزام میں حکومت کے امداد یافتہ اسکول کے دوٹیچروں کو برطرف کردیا ہے ۔ان دونوں ٹیچروں پر الزام ہے کہ انہوں نے پری پرائمری جماعت میں ایسی کتاب شامل کی ہے جس کے ٹکسٹ بک میں انگریزی کے الفافیٹ (حروف تہجی)کی شناخت میں یو(U)فار ’اگلی‘ (UGLY) (بدصورت) بتاتے ہوئے ایک سیاہ فام شخص کی تصویر دکھائی گئی ہے ۔ریاستی وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی نے کہا کہ یہ کتاب ریاستی حکومت کی تجویز کردہ نصاب کا حصہ نہیں ہے۔ اسکول انتظامیہ نے اپنے طور پر یہ کتاب اپنے نصاب میں شامل کررکھا ہے ۔