نشہ کا چاکلیٹ تیارکنندہ شاطر شخص گرفتار

   

بزنس مینجمنٹ کی تعلیمی قابلیت کا غلط استعمال کا شاخسانہ
حیدرآباد ۔ 9 نومبر ۔ ( سیاست نیوز ) شہر حیدرآباد میں نشہ کا چلن عام ہوتا جارہا ہے ۔ آن لائین خرید و فروخت کے رجحان کی آڑ میں نشہ کے چاکلیٹ کو آن لائین فروخت کرنے والے شاطر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ۔ پیشہ سے بزنس مینجمنٹ کا طالب علم رشی سنجے مہتا اب پولیس کی حراست میں ہے جو نوجوان نسل کو نشہ کے چاکلیٹ کا عادی بنارہا تھا ۔ پولیس نے گزشتہ ہفتہ اس شاطر کو گرفتار کرلیا اور اس کے قبضہ سے حشیش آئیل اور چاکلیٹ کے ذخیرہ کو ضبط کرلیا ۔ خاص بات یہ ہے کہ نشہ کے ان چاکلیٹ کو رشی سنجے مہتا ہی تیار کرتا تھا ۔ چاکلیٹ کی تیاری کیلئے بازار سے چاکلیٹ ، بسکٹ اور دیگر اشیاء کی خریداری کرتا تھا اور ان میں حشیش آئیل ملاوٹ کرتے ہوئے خود نشہ کے چاکلیٹس تیار کرتا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق رشی نے چند ہی روز میں کافی مقبولیت حاصل کرلی تھی جو اس کی گرفتاری کا سبب بن گئی ۔ رشی سنجے مہتا حشیش آئیل کو آندھراپردیش سے خریدا کرتا تھا اور اس سے چاکلیٹ تیار کرتے ہوئے فروخت کرتا تھا ۔ چاکلیٹ کی تشہیر کیلئے اس نے آن لائین سوشل میڈیا ذرائع کا استعمال کیا ۔ انسٹاگرام ، فیس بک اور دیگر ذرائع سے تشہیر کرتے ہوئے گراہک بنارہا تھا اور ان کو نشہ کے چاکلیٹس کی ڈیلیوری بھی وہ بذریعہ آن لائین ہی کیا کرتا تھا ۔ اوبیر اور ریاپیڈو جیسی سرویس کو استعمال کرتے ہوئے رشی ان چاکلیٹ کی ڈیلیوری کیا کرتا تھا ۔ بزنس مینجمنٹ کے اس طالب علم نے اپنی تعلیمی قابلیت کو نشہ کے چاکلیٹ تیار کرنے میں استعمال کیا اور بزنس کو آگے بڑھانے کے لئے بھی اپنی تعلیم سے سیکھتے ہوئے ان صلاحیتوں کا غلط راستہ ہی میں استعمال کیا ۔ رشی سنجے مہتا ہر دن 50 تا 60 چاکلیٹ تیار کرتا تھا اور اس کے گراہک بھی نوجوان پائے گئے ہیں ۔ وہ نوجوان نسل کو نشہ کی لعنت کا شکار بنارہا تھا اور ہر دن اس کے گراہکوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا ۔ پولیس کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ رشی کے 100 سے زائد گراہک پائے جاتے ہیں جن کی عمر 18 تا 24 سال کے درمیان ہے۔ع