ll بی جے پی، بی آر ایس کو ووٹ موسیٰ ندی میں ڈالنے کے مترادف
ll ’ریونت الدین‘ کہنا میرے لئے باعث فخر، بی جے پی کے ریمارک پر ردعمل
نظام آباد۔ 6 فروری (محمد جاوید علی کی رپورٹ) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج نظام آباد کے دورے کے موقع پر ایک بڑے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور بی آر ایس پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان ’’فیویکال جیسا مضبوط بندھن‘‘ ہے اور ان میں سے کسی ایک کو ووٹ دینا دراصل ایک ہی بات ہے۔ انہوں نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کو ووٹ دینا موسیٰ ندی میں ووٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کے صدر رام چندرا راؤ کی جانب سے انہیں ’’ریونت الدین‘‘ کہے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس لقب پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی سی تحفظات سے متعلق قرارداد منظور ہونے پر ایم ایل سی مہیش کمار گوڑ نے انہیں ’’ریونت گوڑ‘‘ کہا تھا۔ جبکہ مختلف طبقات نے بھی انہیں اپنے اپنے طبقے سے جوڑ کر لقابات دیے ہیں۔ یہاں تک کہ سکھ برادری اور مسلمان بھی محبت سے انہیں مختلف ناموں سے پکارتے ہیں، جس پر انہیں کوئی اعتراض نہیں بلکہ فخر محسوس ہوتا ہے۔ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو چار فیصد تحفظات فراہم کیے ہیں اور وہ ان تحفظات کے تحفظ کے لیے بھی پوری طرح پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ملک کو صدر جمہوریہ دینے کے ساتھ ساتھ چیف منسٹر بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے اور یہ جماعت تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر کشن ریڈی اور رکن پارلیمنٹ نظام آباد دھرم پوری اروند پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ دونوں کے سی آر اور کے ٹی آر کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ پر 24 گھنٹوں میں گرفتاری کا اعلان کرنے والے کشن ریڈی اب خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بی جے پی کے پاس دو مرکزی وزیر ہیں تو پھر بھی تلنگانہ اور بالخصوص نظام آباد کو کیا فائدہ پہنچا؟انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں سے مرکز میں بی جے پی اور 10 برسوں سے ریاست میں بی آر ایس کی حکومت رہی، لیکن نظام آباد کو نہ ایئرپورٹ ملا، نہ اسمارٹ سٹی کا درجہ اور نہ ہی آؤٹر رنگ روڈ۔ انہوں نے حیدرآباد میٹرو ریل کے لیے فنڈس کی عدم منظوری پر بھی سوال اٹھایا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اب تک 70 ہزار نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے چیلنج کر تے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اس پر سوال کرے تو وہ مکمل حساب کے ساتھ تفصیلات پیش کریں گے، اور اگر ایک بھی نوکری کم ثابت ہوئی تو وہ اپنی ذمہ داری قبول کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب حکومت نے نوکریاں دیں تو مخالفین نے عدالتوں میں مقدمات دائر کیے، تاہم کل گروپ۔1 کے معاملہ میں ہائی کورٹ نے ان مخالفین کو سخت جھٹکا دیا۔ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ نظام آباد کارپوریشن کو ترقی کا مرکز بنا کر اسے پورے تلنگانہ کے لیے مثالی شہر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کو ایئرپورٹ فراہم کیا جائے گا اور آؤٹر رنگ روڈ کی تعمیر بھی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ نظام آباد ایک تاریخی ضلع ہے اور شاعر داسرتھی، منڈاو وینکٹیشور راؤ اور سدھرشن ریڈی جیسے بے داغ قائدین نے اسی سرزمین سے خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ کسانوں اور عوام کے مسائل کے لیے جدوجہد کی ہے اور نظام آباد ان کے دل کے بہت قریب ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ضلع میں تعلیمی اداروں کے لیے 600 کروڑ روپے اور متحدہ نظام آباد ضلع کی میونسپلٹیز میں 1045 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے ضلع کے دورے کے دوران بھردی پور گاؤں میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا۔ تلنگانہ یونیورسٹی، ڈچپلی میں ایس سی طلبہ و طالبات کے لیے علیحدہ ہاسٹلس کی تعمیر (20 کروڑ روپے)، اندل وائی میں ایکلویہ ماڈل ریسیڈینشل اسکول کے لیے اسٹاف کوارٹرس، آرمور، بودھن اور نظام آباد رورل اسمبلی حلقوں میں ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ ریسیڈینشل اسکولس کی تعمیر (600 کروڑ روپے) کا آغاز کیا گیا۔اسی طرح تلنگانہ یونیورسٹی میں طالبات کے لیے نیا ہاسٹل (8.60 کروڑ)، انڈور اسٹیڈیم (1.36 کروڑ)، جدید سائنس لیب (18 کروڑ) اور آڈیٹوریم، ایڈمنسٹریشن بلڈنگ و سی ایس ای بلڈنگ کی توسیع (43 کروڑ روپے) کے کاموں کا بھی سنگِ بنیاد رکھا گیا۔وزیر اعلیٰ نے سیلف ہیلپ گروپس کو 200 کروڑ روپے کے بینک لنکیج چیکس تقسیم کیے اور ضلع میں مختلف سڑکوں کی توسیع و مضبوطی کے کاموں کا بھی آغاز کیا، جن پر 21 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔اس موقع پر ایکسرسائز کانسٹیبل مرحوم سومیہ کی والدہ کو ایک کروڑ روپے کا چیک پولیس کانسٹیبل پرمود کی بیوہ کو ایک کروڑ روپے کا چیک حوالے کیا۔اس جلسہ کی صدارت رکن اسمبلی نظام آباد رورل ڈاکٹر بھوپت ریڈی نے کی۔ جلسہ سے پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر مہیش کمار گوڑ، وزیر زراعت ناگیشور راؤ، وزیر سیول سپلائیز اتم کمار ریڈی، رکن اسمبلی بودھن سدرشن ریڈی، گورنمنٹ ایڈوائزر محمد علی شبیر اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔