نندیال پولیس ظلم و زیادتی کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

   

ملزم پولیس آفیسرکو صرف 12 گھنٹے میں ضمانت قابل افسوس۔ چندرا بابو نائیڈو

کرنول۔ نندیال ضلع کرنول میں پولیس کے ظلم و زیادتی سے تنگ آکر بیوی، بیٹی اور بیٹے کے ساتھ ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرنے والے عبدالسلام کے کیس میں پولیس آفیسر کو 12 گھنٹوں کے اندر ضمانت مل جانے پر سابق وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ تلگودیشم کے ایک سابق ریاستی وزیر اچم نائیڈو کو صرف ایک مراسلہ تحریر کرنے کے الزام میں گرفتار کرنے پر 3 مہ تک ضمانت نہیں ملتی ہے اور ایک سابق ریاستی وزیر کے رویندر کو صرف اور صرف کسی کے فون کو لیکر فون کرنے والے کی گفتگو سننے کے الزام میں گرفتار کرنے پر 50 دن تک عدالت سے ضمانت نہیں ملتی ہے تو ایک مسلم خاندان کی اجتماعی خودکشی کے ذمہ دار پولیس آفیسر کو 12 گھنٹوں کے اندر کیسے ضمانت مل جاتی ہے؟ اور اس سوال کو اٹھانے پر کہا جارہا ہے کہ ایک ٹی ڈی پی وکیل کی وجہ سے ہی عدالت نے ضمانت منظور کی ہے۔ مسٹر نائیڈو نے پوچھا کہ اگر واقعی تلگودیشم کے وکیل میں اتنی طاقت ہے تو پھر تلگودیشم قائدین کو کئی ماہ تک ضمانت کے انتظار میں جیل میں کیوں بند رہنا پڑا ہے؟ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جان بوجھ کر مکمل ایک خاندان کی خودکشی کے ذمہ دار پولیس آفیسر کے خلاف کمزور دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے تاکہ باآسانی ضمانت مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں پائی جانے والی شدید ناراضگی اور غصہ کو دیکھتے ہوئے جگن حکومت مذکورہ الزام عائد کررہی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے گزشتہ کل ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ نندیال میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس مناسبت سے انہوں نے کہا کہ جگن حکومت کے غلط مقدمات سے تنگ آکر ہی سابق اسمبلی اسپیکر شیو پرساد نے بھی خودکشی کی تھی۔ چندرا بابو نائیڈو نے اس بات کا پرزور مطالبہ کیا کہ عبدالسلام اور ان کے خاندان کی خودکشی کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی جائیںاور ایک فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرتے ہوئے ملزمین کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔