نوجوان ووٹرس ‘ بی آر ایس کی اصل مشکل

   

ملازمتیں اور بیروزگاری بھتہ نہ ملنے پر شدید ناراضگی
حیدرآباد 12 اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں نوجوان ووٹرس کی اہمیت میں اضافہ کے بعد برسراقتدار جماعت کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ 2018 میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے علاوہ انہیں روزگار کے حصول تک ’بے روزگاری بھتہ‘ کا اعلان کیا تھا لیکن حکومت کے 5برس کے باوجود اس پر عمل نہ ہونے سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ بی آر ایس کے مشکل ہو رہی ہے ۔ 2018 انتخابات سے قبل حکومت نے بے روزگاری بھتہ کی اجرائی و سرکاری محکمہ جات میں تقررات کا اعلان کیا تھا لیکن ان میں کسی پر عمل نہ ہونے سے نوجوانوں میں ناراضگی پیدا ہونے لگی ہے اور وہ حکومت سے استفسار کرنے لگے ہیں۔مخالف حکومت صورتحال پر بی آر ایس سے نئے وعدوں کی تیاری ہورہی ہے لیکن نوجوانوں کا کہناہے کہ اب کے سی آر کے وعدوں پر اعتبار مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے کیونکہ 2014 سے قبل تحریک تلنگانہ میں بھی کے سی آر نے کئی وعدے کئے تھے لیکن پہلی معیاد میں ان کو پورا نہیں کیا گیا اور یہ استدلال پیش کیا گیا کہ تقسیم کے بعد پہلی حکومت ہے اسی لئے ان پر عمل ممکن نہیں تھا اسی لئے 2018 میں نوجوانوں نے دوبارہ کے سی آر اور اور تقررات و بے روزگاری بھتہ کی یقین دہانی پر اعتماد کیا لیکن دوسری معیاد مکمل ہونے کے باوجود نہ تقررات کئے گئے اور نہ بے روزگاری بھتہ کی اجرائی کا آغاز کیا گیا اسی لئے اب ریاست کے طلبہ اور نوجوانوں و معمولی تنخواہوں پر خانگی کمپنیوں کے ملازمین میں حکومت سے ناراضگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس مرتبہ اعتبار ممکن نہیں ہے۔