حکومت کے اعلان پر کوئی پیشرفت نہیں۔ جائیداد مالکین میں تشویش کی لہر
حیدرآباد۔20فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں نوٹری جائیدادوں کی رجسٹری کیلئے حکومت سے مہلت کی فراہمی کے تیقنات کے باوجود اب تک واضح احکام جاری نہیں کئے گئے جس کے سبب نوٹری جائیدادوں کے مالکین میں تشویش پیدا ہونے لگی ہے ۔ حکومت نے نوٹری جائیدادوں کے منتقلی پر پابندی کو ختم نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے نوٹری جائیدادوں کی خرید و فروخت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پرانے شہر کی گنجان آبادیوں میں جہاں جائیدادوں کی خرید و فروخت نوٹری پر کی گئی اور برسوں سے لوگ ان میں مقیم ہیں ان جائیدادوں کو بھی رجسٹرڈ نہیں کیا جا رہاہے جس کی وجہ سے پریشان ہیں۔ پرانے شہر میں بیشتر محلہ جات میں نوٹری جائیدادوں کی خرید و فروخت معمول کی بات تھی لیکن حکومت سے غیر مجاز اور غیر قانونی تعمیرات کے علاوہ نوٹری جائیدادوں کے رجسٹریشن اور منتقلی پر پابندی نے شہریوں کو مسائل میں مبتلاء کردیا ہے ۔ گذشتہ دنوں دہلی ہائی کورٹ کے ایک فیصلہ میں نوٹری جائیداد پر طویل مدت کے قبضہ کو بھی ملکیت کیلئے قبول نہ کرنے سے حالات مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ حکومت سے مسلسل نمائندگی اور نوٹری جائیدادوں کے رجسٹریشن کیلئے موقع فراہم کرنے کی خواہش کے باوجود فیصلہ نہ کئے جانے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہاہے۔ نوٹری جائیدادو ںکی ملکیت ثابت نہ کرپانے اور نوٹری دستاویزات پر بلدیہ حیدرآباد کی جانب سے اسسمنٹ نہ کئے جانے اور تعمیری اجازت نہ ملنے سے بھی میں تشویش ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے کہا جا رہاہے جو جائیداد نوٹری پر خریدی گئی اس کا کوئی اسسمنٹ نہیں کیا جائے گا اور محکمہ اسٹامپس اینڈ رجسٹریشن کی جانب سے ان کی رجسٹری نہ کئے جانے کے فیصلہ کے سبب وہ غریب شہری جو نوٹری جائیدادوں کو فروخت کرنا چاہتے ہیں انہیں معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ وہ نہ جائیداد فروخت کرسکتے ہیں اور نہ ہی نوٹری دستاویزات پر بینک سے قرض حاصل کرسکتے ہیں۔سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کی جانب سے متعدد مرتبہ توجہ مبذول کروائی جاچکی ہے لیکن حکومت سے کوئی کاروائی یا سہولت فراہم کرنے کے متعلق غور کئے جانے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔