30 لاکھ خاندانوں سے ایک کروڑ ووٹ کا نشانہ، امیدواروں کو استفادہ کنندگان سے ملاقات کی ہدایت، ارکان اسمبلی کو ناراضگی کا سامنا
حیدرآباد: 12 اکٹوبر (سیاست نیوز) انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے نوٹ کے استعمال کا رجحان عام ہوچکا ہے۔ کوئی بھی پارٹی یہ دعوی نہیں کرسکتی کہ وہ دولت کے استعمال کے بغیر ہی انتخابی مہم چلائے گی۔ برسر اقتدار بی آر ایس نے گزشتہ دو انتخابات میں دولت کے استعمال کے تمام ریکارڈس توڑدیئے ہیں۔ اب جبکہ تیسری مرتبہ برسر اقتدار آنے کا خواب دیکھا جارہا ہے ایسے میں بی آر ایس نے ووٹ کے بدلے نوٹ کے علاوہ اسکیم کے بدلے ووٹ کے منصوبے پر عمل آوری شروع کردی ہے۔ حکومت کی جانب سے حالیہ برسوں میں عمل کی گئی فلاحی اسکیمات کے استفادہ کنندگان کو ووٹ میں تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے انتخابی حکمت عملی کے ماہرین سے مشاورت کے بعد تمام امیدواروں کو ہدایت دی ہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام تک اپنے حلقہ جات میں سرکاری اسکیمات کے استفادہ کنندگان خاندانوں سے ملاقات کریں۔ اسمبلی انتخابات کے لیے 3 نومبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا اور اسی دن سے پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا آغاز ہوگا۔ بی آر ایس قیادت نے فیصلہ کیا کہ پرچہ نامزدگی کے ادخال تک سرکاری اسکیمات کے 30 لاکھ خاندانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان سے ملاقات کا مرحلہ مکمل کرلیا جائے۔ پارٹی کو یقین ہے کہ 30 لاکھ خاندانوں سے کم از کم ایک کروڑ ووٹ بی آر ایس کو حاصل ہوسکتے ہیں جو تلنگانہ میں ہیٹ ٹرک کے لیے کافی ہوں گے۔ حکومت نے جن اسکیمات کے استفادہ کنندگان کو ٹارگیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں رائیتو بندھو، قرض معافی، دلت بندھو، بی سی بندھو، میناریٹیز بندھو، شادی مبارک، کلیان لکشمی، کسانوں کی قرض معافی، مشن بھگیرتا اور آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام جیسے اقدامات شامل ہیں۔ کے سی آر کو یقین ہے کہ اگر حکومت کی اسکیمات سے فائدہ ہاٹھانے والے خاندان پوری دیانت داری کے ساتھ بی آر ایس کی تائید کریں تو ریاست میں تیسری مرتبہ کامیابی یقینی ہوگی۔ بی آر ایس کے 114 امیدواروں کی فہرست جاری کردی گئی ہے جن میں اکثریت سٹنگ ارکان اسمبلی کی ہے۔ تمام ارکان اسمبلی کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اسمبلی حلقہ جات میں عہدیداروں کے ذریعہ اسکیمات کے استفادہ کنندگان کی تفصیلات حاصل کریں اور روزانہ ایک گروپ کے ساتھ دن بھر اجلاس منعقد کیا جائے۔ اجلاس میں حکومت کی اسکیمات کے فوائد سے عوام کو واقف کرایا جائے اور یہ تیقن دیا جائے کہ تیسری مرتبہ برسر اقتدار آنے کے بعد استفادہ کنندگان کی تعداد میں نہ صرف اضافہ کیا جائے گا بلکہ بجٹ کی گنجائش کے اعتبار سے امدادی رقم میں اضافہ کیا جائے گا۔ حکومت کو کسانوں، دلتوں اور خواتین سے زیادہ تر امیدیں ہیں کیوں کہ مالی امداد سے متعلق بیشتر اسکیمات کا تعلق مذکورہ طبقات سے ہے۔ الیکشن شیڈول کی اجرائی سے قبل ہی ضلع کلکٹرس کے ذریعہ ہر ضلع میں سرکاری اسکیمات کے استفداہ کنندگان کی تفصیلات حاصل کرلی گئیں۔ ذرائع کے مطابق آسرا پنشن کے تحت لاکھوں خواتین اور معذورین میں بی آر ایس کی مہم چلائی جائے گی۔ روزگار کی فراہمی میں ناکامی کے سبب حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے انتخابی منشور میں اہم اعلانات کا منصوبہ بنایا ہے۔ چیف منسٹر 15 اکٹوبر کو بی آر ایس کا انتخابی منشور جاری کریں گے اور پارٹی قائدین کے مطابق یہ منشور دیگر پارٹیوں کے لیے چونکا دینے والا ثابت ہوگا۔ اسکیم کے عوض میں ووٹ کا مطالبہ کرنا ایسا ہے کہ کسی پر احسان کا بدلہ چکانے کے لیے دبائو بنایا گیا۔ عوام کے لیے بھلائی اسکیمات کسی بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن اسے غریب اور متوسط طبقات پر بطور احسان پیش کرنا عوام کی توہین ہے۔ جس طرح دولت، شراب ا ور دیگر مراعات کے ذریعہ رائے دہندوں کو ووٹ کی ترغیب دی جاتی ہے ٹھیک اسی طرح بی آر ایس نے اسکیمات کے نام پر رائے دہندوں کو تائید کے لیے مجبور کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ استفادہ کنندگان کا ردعمل کیا رہے گا۔ بیشتر اسکیمات ایسی ہیں جن کے استفادہ کنندگان کا تعلق برسر اقتدار پارٹی یا پھر بی آر ایس قائدین سے قربت رکھنے والوں کا ہے۔ لاکھوں درخواستیں اسکیمات کے لیے زیر التوا ہیں۔ ابتدائی مرحلہ میں جب ارکان اسمبلی نے استفادہ کنندہ خاندانوں سے ملاقات کرتے ہوئے بی آر ایس کی تائید کی اپیل کی تو انہیں تائید کے بجائے عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ارکان اسمبلی کی جانب سے کسی دبائو کا الٹا اثر پڑسکتا ہے۔