نئی دہلی: حکومت نے لوک سبھا میں مخالفت کے درمیان مسلمانوں کی مذہبی جائیدادوں کے انتظام کے لیے وقف ترمیمی بل 2025 متعارف کرایا اور کہا کہ یہ بل کسی بھی مسجد، درگاہ یا دیگر کسی مذہبی جگہ کو ہڑپنے کے لیے نہیں ہے ، بلکہ خالصتاً عطیہ کی گئی جائیداد کے بہتر انتظام کے لئے ہے تاکہ مسلم سماج کے غریبوں اور خواتین کی تقدیر بدلی جا سکے ۔ ایوان میں وقفہ سوالات کے بعد ضروری دستاویزات میز پر رکھنے کے بعد اسپیکر اوم برلا نے اقلیتی امور کے وزیر کرن رجیجو کا نام طلب کیا کہ وہ وقف ترمیمی بل 2025 اور مسلم وقف منسوخی بل 2024 کو ایوان میں غور اور منظوری کے لیے پیش کریں۔ ڈپٹی لیڈر اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ، روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نتن گڈکری، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر شیوراج سنگھ چوہان بھی ایوان میں موجود تھے ۔اپوزیشن کی جانب سے آر ایس پی کے لیڈر این کے پریما چندرن نے مسودہ بل پر اعتراض کیا اور کہا کہ کسی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی ) کو بل کے متن کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔ تاہم یہ کام حکومت اور وزراء ہی کر سکتے ہیں۔ اس پر وزیر داخلہ امت شاہ نے واضح کیا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ منظور کردہ مسودہ کو مرکزی کابینہ کی منظوری کے بعد ہی پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس لیے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے ۔ شاہ نے کہا کہ جے پی سی نے بل میں کئی ترامیم کی ہیں۔ کانگریس کے دور اقتدار میں کمیٹیوں پر مہر لگائی گئی۔ ہمارے دور میں کمیٹیاں غور کرتی ہیں اور ضروری تبدیلیاں کرتی ہیں۔ اس کے بعد اسپیکر مسٹر برلا نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے بل کو پیش کرنے کی اجازت دے دی۔بل کو ایوان کے سامنے غور کے لیے پیش کرتے ہوئے مسٹر رجیجو نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے ملک بھر کے تمام طبقوں کے لوگوں کے ساتھ وسیع بحث و مباحثے اور مذاکرات کے بعد اس بل پر اپنی رپورٹ دی تھی اور اسی بنیاد پر یہ بل منظور کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جے پی سی نے اس بل کے حوالے سے بے مثال محنت کی ہے اور اس بل سے متعلق تقریباً 97 لاکھ 27 ہزار 772 تجاویز، اپیلیں، یادداشتیں اور سفارشات کو نمٹا یا گیا ہے ۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مختلف تنظیموں، مذہبی برادریوں، محققین وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ انہیں یقین ہے کہ جو لوگ اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں، حقائق جاننے کے بعد ان کے دل اس کے بارے میں بدل جائیں گے اور وہ سب اس کی حمایت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بل خالصتاً جائیداد کے انتظام کا معاملہ ہے اور اس میں کسی مذہبی کام کاج میں مداخلت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا حکومت کسی مذہبی کام میں مداخلت نہیں کر رہی ہے … یہ مندر یا مسجد کا معاملہ نہیں ہے ۔ یہ خالصتاً جائیداد کے انتظام سے متعلق معاملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک کا انتظام متولی کرتے ہیں اور یہ بل اسی انتظام سے متعلق ہے ۔