نیشنل ہیرالڈ معاملہ پہلے منی لانڈرنگ کا نہیں تھا:کانگریس

   

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ پہلے حکومت خود نیشنل ہیرالڈ معاملے کو کالے دھن کو جائز بنانے کا معاملہ نہیں مانتی تھی لیکن سیاسی دشمنی کی وجہ سے بعد میں اسے ایسا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔کانگریس کے سینئر لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے چہارشنبہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ معاملہ سبرامنیم سوامی نے شروع کیا تھا۔ ابتدائی طور پر اس کیس میں حکومت کو محسوس ہوا کہ یہ کالے دھن کو جائز بنانے کا معاملہ نہیں ہے لیکن جب کیس شروع ہوا تو کچھ دنوں بعد پتہ چلا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد خود سبرامنیم سوامی نے ایک تکنیکی طریقہ کار کی بنیاد پر اپنے ہی کیس کو دہلی ہائی کورٹ میں جاکر اسٹے کرا دیا۔ یہ کیس ابھی تک اسٹے پر ہے ، اس کے بعد حکومت نے اس کیس کو ہائی جیک کر کے ایک نیا کیس شروع کردیا، جبکہ حکومت کو اس میں کبھی کوئی بے ضابطگی نظر نہیں آئی، پھر سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کو اس معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا۔ اس پوچھ گچھ میں تقریباً سارے سوال کے جوابات کے جوابات دیئے گئے ، لیکن اس سلسلے میں عمل کا اختتام چارج شیٹ ہے ، جو اب داخل ہوئی ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ قانونی طور پر یہ معاملہ عجوبہ ہے ۔
یہ کیس قانون کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا عمل ہے ۔ ساتھ ہی یہ انتقام اور ہراساں کرنے کی سیاست کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔ اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ای ڈی کے 100 کیس ہیں، تو ان میں سے تقریباً 98 فیصد سیاسی حریفوں خاص طور پر اپوزیشن کے لوگوں کے خلاف ہیں اور اس میں قصور ثابت ہونے کی شرح ایک فیصد کے قریب ہے ۔حکومت نے ای ڈی کو اپنا انتخابی محکمہ بنا رکھا ہے ۔ حکومت نے اس ایجنسی کا بے شرمی سے بار بار غلط استعمال کیا ہے ۔ فائدہ کس نے اٹھایا، لیکن ان میں سے کسی سوال کا آپ کو جواب نہیں ملے گا۔ حکومت کا بنیادی مسئلہ صرف ملک اور میڈیا کو ورغلانے اور بہکانے کا ہے ، جس کا ردعمل آپ دیکھ بھی رہے ہیں۔