دو کمسن بچے فوت ، رشتہ داروں کا احتجاج ، ڈاکٹرس کے خلاف کارروائی پر زور
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : سرکاری دواخانوں میں معیاری سہولیات کے باوجود ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ عملہ کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ ڈاکٹروں کی مبینہ لاپرواہی کے سبب شیرخوار بچے فوت ہوگئے ۔ بچوں کی موت کے بعد نیلوفر ہاسپٹل میں حالات کشیدہ ہوگئے ۔ متوفی کے رشتہ داروں نے ڈاکٹرس پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج منظم کیا اور خاطی ڈاکٹرس و عملہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ ڈاکٹرس کی من مانی بالخصوص پی جی ڈاکٹرس کے رویہ پر ہاسپٹلس سے رجوع ہونے والے ہر شہری کو شکایت رہتی ہے ۔ تاہم حکومت نے ڈاکٹرس کے حق میں تو قانون نافذ کردیا لیکن ڈاکٹرس کے رویہ پر لگام کسنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس کے نتیجہ میں سرکاری دواخانوں پر عوام کا اعتماد بحال ہونے میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ بچوں کی موت کے بعد ان کے رشتہ داروں اور دیگر شہریوں نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ تاہم اس واقعہ پر ہاسپٹل کے ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ بچوں کی صحت کافی ناساز تھی اور وہ انتہائی نازک حالت میں تھے ۔ نیلوفر ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ مرلی کرشنا نے ان واقعات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نیلوفر ہاسپٹل میں مرنے والا ایک ہی بچہ ہے بلکہ انہوں نے دو بچوں کی بات کو مسترد کردیا اور کہا کہ گذشتہ ماہ کی 28 تاریخ کے دن اس بچہ کو ناگر کرنول سے نیلوفر منتقل کیا گیا اور یہ لڑکا اسپریکٹو ڈیسریس سنڈروم بیماری کا شکار تھا ۔ اس بچہ کی پیدائش 7 ماہ میں ہوئی تھی اور اس کا وزن بھی کافی کم صرف ایک کیلو ہونے کے سبب صحت کافی ناساز تھی ۔ سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ بچہ آج صبح فوت ہوگیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرض کا شکار بچے کے اعضاء کی تیاری اور ان کی نشوونما نہیں ہوئی اور جب ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا تب سے بچہ آکسیجن پر تھا ۔ ڈاکٹروں کی لاپرواہی کے الزامات کو سپرنٹنڈنٹ مسترد کردیا ۔۔ع