تہران :ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی میں مدد دینا امریکا کی ایک ذمے داری ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے ہفتے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ہم ویانا میں جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں لیکن یہ بات یادرکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سب عمل کیسے شروع ہوا تھا۔تین سال قبل ا?ج کے دن ایک بے توقیر مداری نے امریکا کی ذمے داریوں سے انحراف کیا تھا۔‘‘ان کا اشارہ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب تھا۔انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’آج صدر بائیڈن کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا امریکا لاقانونیت ہی کو جاری رکھے گا یا قانون کی پاسداری کرے گا۔اب ذمہ داری کا بوجھ امریکا پر ہے،ایران پر نہیں۔‘‘امریکا اور ایران کے درمیان آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اس وقت جوہری سمجھوتے کی بحالی سے متعلق بالواسط مذاکرات کا چوتھا دور جاری ہے۔ایران کے ایک اعلیٰ مذاکرات کار نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا نے ایران کے خلاف عاید کردہ بہت سی پابندیوں کو ختم کرنے پرآمادگی ظاہر کی ہے لیکن تہران مزید اقدامات کا مطالبہ کررہا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ’’ایران ان مذاکرات میں سنجیدگی سے حصہ تو لے رہا ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ تہران سمجھوتے کی بحالی کی صورت میں اس کے تقاضوں کی کس طرح پاسداری کرے گا۔‘‘جب صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ کیا ایران مذاکرات کے سلسلے میں سنجیدہ ہے؟ تو انھوں نے کہا:’’ہاں ،لیکن وہ کتنا سنجیدہ ہے اور وہ (ایرانی) کیا کچھ کرنے کو تیار ہیں تو یہ ایک مختلف کہانی ہے۔