نیٹ امتحان میں کیمسٹری اور فزیکس کے پیپرس کٹھن تھے، بائیولوجی کا پیپر آسان تھا ، ماہرین طبی تعلیم کی رائے

   

حیدرآباد ۔ 14 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : طبی تعلیم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال نیٹ کا امتحان گذشتہ سال کے بہ نسبت کٹھن تھا اور ہر طالب علم کے لیے مارکس گھٹنے کا امکان ہے ۔ اگرچہ کے گذشتہ سال کا نیٹ امتحان کورونا کے پس منظر میں آسان تھا ۔ تب 720 کے منجملہ 700 مارکس کئی طلبہ نے حاصل کئے تھے ۔ اس مرتبہ 700 مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد بڑی حد تک گھٹ جانے کا امکان ہے ۔ گذشتہ سال 625 مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کا اندرون 10 ہزار رینک تھا سال 2019 میں 560 مارکس حاصل کرنے والوں کا اندرون 10 ہزار رینک تھا سال 2018 میں 540 مارکس حاصل کرنے والوں کا اندرون 10 ہزار رینک تھا ۔ تلنگانہ میں گذشتہ سال جنرل زمرے میں 497 مارکس حاصل کرنے والوں کو ایم بی بی ایس کی نشست حاصل ہوئی تھی اس سال 470 تا 480 مارکس حاصل کرنے والوں کو نشست حاصل ہونے کا امکان ہے ۔ اس مرتبہ بائیولوجی کا پیپر آسان تھا ۔ تاہم کیمسٹری کا پیپر تھوڑا سخت تھا ۔ تمام سوالات کو احتیاط سے پڑھتے ہوئے سونچ سمجھ کر جواب تحریر کرنا تھا ۔ فزیکس کے تمام سوالات انتہائی کٹھن تھے ۔ 45 کے منجملہ 30 تا 35 سوالات کے ہی مقررہ وقت کے لحاظ سے جواب دیا جاسکتا تھا ۔ 10 تا 15 سوالات زیادہ کٹھن تھے بیشتر طلبہ کے لیے وقت کی کمی محسوس کی گئی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ جو ٹاپ 10 رینکس حاصل کرسکتے ہیں ۔ وہی طلبہ تمام سوالات کے جوابات تحریر کرسکتے ہیں ۔ گذشتہ سال جنرل زمرے میں نیٹ کوالیفائی مارکس 147 تھے ۔ جب کہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی زمرے کے لیے 113 کوالیفائنگ مارکس تھے ۔ سال 2019 میں جنرل زمرے میں کوالیفائنگ مارکس 134 تھے اور ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی زمرے کے لیے 107 کوالیفائنگ مارکس تھے ۔ اس سال جنرل زمرے میں 130 سے کم مارکس حاصل کرنے پر کوالیفائی ہوسکتے ہیں جب کہ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی طلبہ کے لیے کوالیفائینگ مارکس 105 ہونے کے امکانات ہیں ۔۔ N