نیٹ پیپر لیک معاملہ پر راہول نے حکومت کو گھیرا

,

   

راہول اور وزیر دھرمیندر پردھان کے درمیان بحث ، اپوزیشن کا واک آؤٹ

نئی دہلی: لوک سبھا میں پیر کے روز وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن ارکان نے قومی اہلیت و داخلہ ٹسٹ (این ای ای ٹی) کے مسئلے پر بولنے کی اجازت نہ ملنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔وقفہ سوالات کی کارروائی کے دوران ایوان میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور NEET پیپر لیک کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے علاوہ اس سے جڑے سبھی پر الزام لگا رہے ہیں۔ وزیر موصوف کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ امتحانات کے حوالے سے کیا ہو رہا ہے ۔ نوکریوں اور داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے سے لاکھوں طلبہ متاثر ہو رہے ہیں۔ طلبہ بہت پریشان ہیں۔ طلبہ کو یقین ہو گیا ہے کہ ملک میں امتحانی نظام میں فراڈ ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لاکھوں لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آپ امیر ہیں تو آپ امتحانی نظام خرید سکتے ہیں۔ ہم وزیر موصوف سے ایک سادہ سا سوال پوچھنا چاہتے ہیں اور یہ امتحانی نظام سے متعلق ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے درحقیقت آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟اس پر پردھان نے کہا کہ اڈیشہ میں ان کے حلقہ کے ووٹروں نے انہیں یہاں منتخب کیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں وزیر بنایا ہے ۔ انہیں کسی سے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔اس کے بعد راہول گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن ارکان کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اس کی مخالفت میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
سپریم کورٹ نے آئی آئی ٹی دہلی کی رائے طلب کی
دریں اثناء سپریم کورٹ نے انڈر گریجویٹ سطح کے میڈیکل اور دیگر کورسز میں داخلے سے متعلق 5 مئی کو منعقدہ نیٹ کے ایک متنازعہ سوال کا جواب جاننے کیلئے دہلی کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر کو متعلقہ موضوع کے ماہرین کی تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی تین رکنی بنچ نے آئی آئی ٹی ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دیں جو متنازعہ سوال کا صحیح متبادل تلاش کرے اور 23 جولائی کو اپنی رائے پیش کریں ۔ بنچ نے امتحان کے دوبارہ انعقاد کے حق میں اور اس کے خلاف گھنٹوں تک کئی وکلاء کی دلیلیں سننے کے بعد یہ حکم جاری کیا۔ فزکس کے سوال نمبر 19 کے چار آپشنز میں سے دو کو درست جواب قرار دینے والی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے فیصلے پر بھی دلائل کی سماعت کی گئی ۔