نیپال کی سپریم کورٹ کا حکومت کو 1816ء کا نقشہ فراہم کرنے کی ہدایت

   

ہند ۔ نیپال سرحدی تنازعہ
سگولی معاہدہ پر دستخط کے وقت نقشوں کا تبادلہ ہوا تھا
نیپال کے بعض علاقوں بشمول کالاپانی کو ہندوستان کا حصہ بتانے پر نیپال کو اعتراض

نیپال ۔ 2 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) نیپال کی سپریم کورٹ نے اندرون 15 دن ملک کا وہ اصلی نقشہ طلب کیا ہے جس کا تبادلہ 1816ء میں سگولی معاہدہ پر دستخط کے وقت کیا گیا تھا۔ یاد رہیکہ نیپال سرحد کے تحفظ کیلئے عدالت میں ایک درخواست کی گئی ہیکہ اس معاملہ میں عدالت مداخلت کرے۔ جسٹس ہری پرساد بھوپال کی سنگل بنچ نے حکومت نیپال سے مذکورہ اصلی نقشہ طلب کیا ہے جو دراصل مفادعامہ کی درخواست کے ادخال کے بعد کیا جانے والا اقدام ہے جو ایک سینئر ایڈوکیٹ نے داخل کی ہے جس نے یہ خواہش کی ہیکہ سپریم کورٹ حکومت نیپال کو یہ حکم دے کہ وہ (حکومت) نیپالی سرحدوں کے تحفظ کیلئے سیاسی و سفارتی کوششوں کا آغاز کرے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ گذشتہ سال نومبر میں ہندوستان کی جانب سے ایک سیاسی نقشہ کی اجرائی عمل میں آئی تھی جو دراصل جموں و کشمیرکی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے بعد جاری کیا گیا تھا جس پر نیپال نے اعتراض کیا تھا کیونکہ ہندوستان کے سیاسی نقشہ میں لمپیادھورا، لپولیک اور کالاپانی علاقوں کو ہندوستان کی سرحد میں بتایا گیا تھا جبکہ یہ نیپالی علاقے ہیں۔ دوسری طرف ہندوستان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیا نقشہ ہندوستان کے خودمختار علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے لہٰذا ہندوستان نے نیپال کے ساتھ اپنی سرحدوں پر کوئی نظرثانی نہیں کی ہے۔ یاد رہیکہ سگولی معاہدہ کے مطابق نیپال کے کچھ علاقے بشمول دارجلنگ کو بطور رعایت برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کے حوالہ کردیا گیا تھا۔ سگولی معاہدہ پر اینگلو۔ نیپالیز جنگ کے خاتمہ کے بعد دستخط کئے گئے تھے۔ معاہدہ کے مطابق نیپال کے کنٹرول والے علاقے جنہیں شاہ نیپال نے مختلف جنگوں میں جیتا تھا جیسے مشرق میں مملکت سکم اور مغرب میں کماؤں اور گڑھوال شامل ہیں حالانکہ سپریم کورٹ کا حکم پیر کے روز جاری ہوا تاہم حکمنامہ کا متن چہارشنبہ کو جاری کیا گیا۔ مندرجہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت نیپال کو ہدایت کی ہیکہ تحریری طور پر سگولی معاہدہ کے زمانہ کے نقشہ کی ایک نقل اندرون 15 روز فراہم کی جائے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے متعلقہ حکام کو دیگر ممالک یا بین الاقوامی تنظیموں بشمول اقوام متحدہ کے ساتھ تبادلہ کئے گئے دیگر سرکاری نقشوں کی نقل بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔