چنئی، 4 مئی (آئی اے این ایس) ایک حیران کن سیاسی تبدیلی میں اداکار سے سیاست دان بننے والے سی جوزف وجے نے تروچی ایسٹ حلقے سے 26 ہزار سے زائد ووٹوں کی زبردست برتری سے کامیابی حاصل کی۔ ان کی جماعت تملگا ویٹری کڑگم (ٹی وی کے ) نے اپنے پہلے ہی انتخاب میں تاریخی فتح حاصل کرتے ہوئے تمل ناڈو کی سیاسی صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ ریاست کی تمام 234 نشستوں پر رائے دہی 23 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوئی جبکہ پیر کے روز 62 مراکز پر ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ یہ مقابلہ دراوڑی سیاست کی بڑی جماعتوں ڈی ایم کے، اے آئی اے ڈی ایم کے، نام تمیزھرکٹچی (این ٹی کے) اور ٹی وی کے کے درمیان چار طرفہ مقابلے کے طور پر شروع ہوا تھا، لیکن بالآخر وجے کی جماعت کے حق میں زبردست لہر دیکھنے میں آئی، جس نے ریاست میں طویل عرصے سے قائم دراوڑی سیاسی غلبے کو چیلنج کردیا۔ انتخابات کا ایک بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب چیف منسٹر ایم کے اسٹالن کولاتھور نشست سے ٹی وی کے کے امیدوار وی ایس بابوکے خلاف 9,192 ووٹوں سے شکست کھا گئے، جو سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ تاہم ڈی ایم کے کے اہم رہنماؤں میں ادھیانیدھی اسٹالن (چیپاک-تھروالیکینی) اور وی سینتھل بالاجی (کوئمبتور ساؤتھ) اپنی نشستیں بچانے میں کامیاب رہے۔ ٹی وی کے کے امیدواروں نے مختلف علاقوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جو پارٹی کی تنظیمی صلاحیت اور عوامی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔ ادھو ارجونا نے ویلیواکم میں کامیابی حاصل کی، تھیناراسو نے سری پرمبدور میں فتح حاصل کی، جبکہ پربھو کارائیکوڈی میں کامیاب ہوئے، جہاں این ٹی کے کے سربراہ سیمان کو مسلسل تیسری بار اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ رویاپورم میں ٹی وی کے کے امیدوار وجے دھمو، جو ایک آٹو ڈرائیور ہیں، نے سابق وزیر ڈی جے کمار کو شکست دے کر سب کو حیران کردیا، جو پارٹی کی مضبوط عوامی جڑوں کو ظاہر کرتا ہے۔ پارٹی نے مائیلاپور میں بھی اہم کامیابی حاصل کی جہاں وینکٹارامانن نے بی جے پی کی رہنما تملیسائی ساؤنڈارراجن کو شکست دی، جبکہ رادھا پورم میں اسمبلی اسپیکر اپاو کو ٹی وی کے کے ستیش نے ہرا دیا۔ دیگر نتائج میں ڈی ایم کے کے راگھوپتی نے تیرومایم میں کامیابی حاصل کی، جبکہ وزیر سیکر بابو نے چنئی ہاربر کی نشست برقرار رکھی۔ ناگاپٹنم میں ایم ایم کے کے جواہراللہ کامیاب ہوئے۔ ٹی وی کے کے رہنماؤں نے اس نتیجے کو تمل ناڈو میں نیا انقلاب قراردیا اور الزام لگایا کہ وجے کی انتخابی مہم کو روکنے اور پارٹی کو بدنام کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اداکار سیواکارتھیکیان نے وجے کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے اثر و رسوخ اور پہلی ہی انتخابی مہم میں غیر معمولی کامیابی کو سراہا۔
کانگریس رہنما گیریش چوڈانکر نے کہا کہ نتائج پر مبنی رپورٹ پارٹی قیادت کو پیش کر دی گئی ہے جبکہ آئندہ حکمت عملی کا فیصلہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور سینئر قیادت کرے گی۔ وجے کی چنئی رہائش گاہ پر سخت سکیورٹی، جس میں آنے والوں کی مکمل جسمانی تلاشی بھی شامل ہے، ان کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرکو واضح کرتی ہے۔ تمل ناڈو اب وجے کی قیادت میں ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔—