نئی دہلی۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ آئی سی سی ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کا فائنل جیت کر آئی سی سی ٹرافی جیتنے کا قحط ختم کردے گی لیکن ٹیم اس میں ناکام رہی لیکن ابھی ایک بڑا ٹورنمنٹ باقی ہے اور ہندوستان اس خشک سالی کو ختم کرسکتا ہے اور شائقین کو اس ٹورنمنٹ سے بہت امیدیں ہیں۔ یہ ٹورنمنٹ آئی سی سی ونڈے ورلڈ کپ ہے۔یہ ورلڈ کپ اکتوبر اور نومبر میں بھارت میں کھیلا جائے گا۔ ہندوستانی ٹیم اس ورلڈ کپ کو کسی بھی حالت میں اپنے نام کرنا چاہے گی اور اب اس کے پاس اس کی تیاری کے لیے صرف 12 میچ باقی ہیں۔ ہندوستان نے آخری بار2013 میں آئی سی سی ٹرافی جیتی تھی لیکن اس کے بعد سے ٹیم کی آئی سی سی ٹرافی جیتنے کا قحط برقرار ہے۔ دوسری جانب ہندوستان نے آخری بار2011 میں اپنے ہی گھر پر ونڈے ورلڈ کپ جیتا تھا اور اب ایک بار پھر اسے گھر پر موقع مل رہا ہے اور 12 مقابلوں سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ دراصل ہندوستان کو ورلڈ کپ سے پہلے تقریباً 12 ونڈے کھیلنے ہیں اور ان ہی میچوں میں اسے اپنا عالمی چمپئن بننے کی تیاری کرنی ہوگی۔ ہندوستان کو اگلے ماہ ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا ہے۔ ہندوستان کو اس دورے پر تین میچوں کی ونڈے سیریز کھیلنی ہے۔ اس کے بعد ہندوستان کو31 اگست سے 17 ستمبر تک ایشیا کپ کھیلنا ہے۔ یہ ایشیا کپ اس بار ونڈے فارمیٹ میں کھیلا جانا ہے، اگر ہندوستان اس ایشیا کپ کے فائنل میں پہنچتا ہے تو اسے چھ میچ کھیلنے کا موقع ملے گا۔ ہندوستان کو گروپ مرحلے میں دو میچ کھیلنے ہوں گے، اس کے بعد اگر ہندوستان سوپر 4 میں جاتا ہے تو وہ یہاں تین ٹیموں کے ساتھ تین میچ کھیلے گا اور پھر اگر وہ فائنل میں جگہ بناتا ہے تو ایک میچ ملے گا۔ اس کے بعد ہندوستان کو ستمبر میں آسٹریلیا کی میزبانی کرنی ہے۔ اس دورے پر ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین میچوں کی ونڈے سیریز کھیلی جانی ہے، اس کے بعد ہندوستان کو صرف ورلڈ کپ کھیلنا ہے۔ویسٹ انڈیز کے دورے سے آسٹریلیا کی سیریز تک، ہندوستان کو جملہ 12 ونڈے کھیلنے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ ہندوستان کو ونڈے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے صرف یہ میچز ملیں گے اور ان میچوں میں ٹیم کو اپنی تمام خامیاں ختم کرنا ہوں گی۔ پھر چاہے وہ مضبوط اوپننگ جوڑی ہو یا مضبوط مڈل آرڈرکی تیاری۔ کپتان روہت شرما اور کوچ راہول ڈراویڈ کے سامنے چیلنج ٹیم کے مڈل آرڈرکو تیار کرنا ہے۔ شریاس آئیر نے کچھ عرصے سے اس مڈل آرڈرکو اچھی طرح سنبھالا ہے لیکن وہ اس وقت زخمی ہے۔ اگرچہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ ایشیا کپ تک فٹ ہو جائیں گے لیکن ان کے علاوہ ٹیم کو اس بات پر بھی توجہ دینا ہوگی کہ مڈل آرڈر کون سنبھالے گا۔ کیونکہ رشبھ پنت بھی زخمی ہیں اور یہ تقریباً طے ہے کہ وہ ونڈے ورلڈ کپ نہیں کھیل پائیں گے۔ ایسی صورتحال میں ہندوستان کو بھی ان کا متبادل تلاش کرنا ہوگا۔اب تک ہندوستان ونڈے میں کے ایل راہول کو وکٹ کیپر اور مڈل آرڈر بیٹرکے طور پر کھیل رہا تھا لیکن راہول کی فارم اچھی نہیں رہی اور وہ زخمی بھی ہیں۔ اگرچہ ان کے ایشیا کپ تک فٹ رہنے کی بھی امید ہے لیکن واپسی کے بعد اگر راہول اپنی فام میں نظر نہیں آتے ہیں تو ہندوستان کو متبادل تیار کرنا ہوگا۔ روہت اور راہول بھی ان 12 میچوں میں صحیح ٹیم کمبی نیشن تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔