نئی دہلی ۔ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں، ہندوستان میں کرکٹ کا سب سے بڑا ٹورنمنٹ ورلڈ کپ 2023 کا انعقاد کیا جائے گا۔ 1983 اور2011 کے ایونٹس کی فتوحات وہ دو سنگ میل ہیں جو کروڑوں ہندوستانی شائقین کے ذہنوں میں نقش ہیں۔دو لیجنڈری اور شاندار ہندوستانی کرکٹرز، کپل دیو اور مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں ان فتوحات کا اثر ،خوشی اور فخر کے وہ لمحات ہیں جن سے ہندوستان آج بھی لطف اندوز ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہندوستانی ٹیم اگرچہ اسے دنیا کی بہترین ٹیموں میں سے ایک کے طور پر دیکھا جاتا ہے، گزشتہ 10 سال میں آئی سی سی ٹرافی فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ 202میں گھر پر ہونے والا ورلڈ کپ ہندوستان کے لیے2011 کی فاتح ٹیم کی شان کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بہترین موقع ہے۔ ہندوستانی کرکٹ ٹیم میں عالمی معیار کے کھلاڑی ہیں، چاہے وہ بیٹنگ میں ہو یا بولنگ میں۔ کاغذ پر ہندوستان ٹرافی کیلئے پسندیدہ نظر آتا ہے۔ تاہم، بڑے ٹورنمنٹس میں ہندوستان کی ماضی کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ ہندوستانی اسکواڈ کا انتخاب اہم مسئلہ ہے۔ بی سی سی آئی کے پاس 15 رکنی حتمی اسکواڈ کا اعلان کرنے کے لیے اب بھی 27 ستمبر تک کا وقت ہے تاہم کھلاڑیوں کی فٹنس اور کارکردگی اب بھی پریشانی کا باعث ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں ٹیم کے تھکا دینے والے شیڈول کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب آسان نہیں ہے ۔ویسٹ انڈیزکا جاری دورہ مکمل طور پر واش آؤٹ رہا ہے جہاں تیاری اور ہندوستانی ورلڈ کپ اسکواڈ کے انتخاب کا تعلق ہے۔ اگرچہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ہندوستان کو ایک ونڈے میچ کے ساتھ ساتھ دو ٹی ٹوئنٹی میں بھی شکست دی ہے، لیکن ان کی کرکٹ کا معیار ابتر ہوگیا ہے ۔ اس اوسط کے خلاف رنز بنانا اور وکٹیں حاصل کرنا کسی کھلاڑی کی صلاحیت کا غلط اشارہ دے سکتا ہے۔ ستمبر 2023 کے آغاز میں منعقد ہونے والا ایشیا کپ ہندوستان کے لیے اپنے ورلڈ کپ کور گروپ کے کھلاڑیوں کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اہم ٹورنمنٹ ہے۔ روہت شرما، ویرات کوہلی اور رویندرا جڈیجہ کے علاوہ باقی ابھی بھی اپنی حالیہ فارم یا مسائل کی وجہ سے غیر یقینی ہیں۔ ہاردک پانڈیا، بحیثیت آل راؤنڈر ہندوستان کے لیے ضروری ہے، تاہم، انہیں اوورزکے اپنے کوٹہ کو مکمل کرنے کے لیے فٹ ہونے کی ضرورت ہوگی۔ ۔ اسی طرح کے فٹنس مسائل کے ایل راہول اور شریاس ایر دونوں کے حوالے سے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یشسوی جیسوال، شبمن گل، رتوراج گائیکواڑ، ایشان کشن، تلک ورما، ارشدیپ سنگھ، ریان پراگ اور اس طرح کے کچھ دوسرے نوجوان کو پلیئنگ الیون میں جگہ ملنی چاہیے۔ ہندوستانی کرکٹ ماضی اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ہمیشہ پرانے اور بھروسہ مند کھلاڑیوں پر انحصارکرنے کا شکار رہی ہے۔