Tuesday , October 22 2019

ورنہ گلشن کی فضاؤں میں بھی ڈر لگتا ہے

کشمیر … مودی ۔ امیت شاہ دورہ کرکے دکھائیں
مسلمانوں کی بے حسی … سنگھ پریوار کے حوصلے بلند

رشید الدین

’’جھوٹ کو اس قدر دُہراؤ کہ لوگ سچ تسلیم کرلیں‘‘۔
نریندر مودی اس فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔ کشمیر کی صورتحال ہو کہ معاشی بحران، مرکز کا ایک ہی نعرہ ہے”All is Well” یعنی سب کچھ ٹھیک ہے۔ جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ملک اور بیرون ملک ہر فورم میں گجرات کی جوڑی مودی۔ امیت شاہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں جیسے کشمیر میں کچھ ہوا ہی نہیں۔ مرکز نے سپریم کورٹ کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وادی میں کوئی تحدیدات نہیں ہیں اور عام زندگی معمول کے مطابق ہے۔ عدالت نے تحدیدات کے بارے میں حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت کے ساتھ سماعت کو نومبر تک ملتوی کردیا، تاہم اسے بھی حکومت کے دعوے پر اعتبار نہیں لہذا عدالت نے مرکز کو صلاح دی کہ شخصی آزادی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔ سپریم کورٹ کیا کشمیر کی صورتحال سے واقف نہیں ہے؟ یقینا اچھی طرح واقف ہے کیونکہ اس کی اجازت سے ہی محروس قائدین کے رشتہ داروں نے اپنے عزیزوں سے ملاقات کی۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد سیاسی قائدین کو وادی میں قدم رکھنے کی اجازت دی گئی۔ اگر عدلیہ آزاد اور مبنی برانصاف نہ ہوتا تو کشمیر کی حقیقی صورتحال منظر عام پر نہ آتی۔ اگر وادی میں سب کچھ ٹھیک ہے تو تحدیدات کی برقراری کیا معنی رکھتی ہے۔ فون، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی نظام مسدود کیوں ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر سنسرشپ اور آزادانہ نقل و حرکت پر پابندی کیوں؟ عوام جب آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں، بازار اور اسکولس کھول دیئے گئے تو پھر حکومت، بازاروں میں گہماگہمی اور اسکولوں میں تعلیم کے ویڈیوز اور تصاویر کس لئے جاری کیوں نہیں کرتی۔

عوام آزاد ہیں تو پھر عبادت گاہیں مقفل کیوں ہیں۔ حتی کہ نماز جمعہ تک کی اجازت نہیں۔ موت کا اس قدر سناٹا ہے کہ عوام میتوں کی تدفین کیلئے قبرستان نہیں جاسکتے۔ دن کا وقت کسی طرح گذر جاتا ہے لیکن شام ہوتے ہوتے خوف و دہشت اور پراسرار سایے بستیوں میں منڈلانے لگتے ہیں۔ نہ جانے کب کس گھر پر دستک ہو اور کس نوجوان کو تفتیش اور شبہ کی بنیاد پر اُٹھا لیا جائے۔ گھر کے بزرگ جن کی آنکھوں سے نیند اوجھل ہے، ٹک ٹکی باندھ کر دروازہ کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں، وقفے وقفے سے سپاہیوں کے جوتوں کی آوازیں دل کی دھڑکن کو تیز کرتی ہیں اور جب سناٹے میں یہ آوازیں کبھی دروازے کے قریب آتی ہیں تو خوف سے کلیجہ جیسے منہ تک آجائے۔ مائیں اور بزرگ خواتین اپنی بچوں کی کچھ اس طرح حفاظت کرتی ہیں کہ جیسے مرغی دشمن کی آہٹ پر چوزوں کو اپنے پروں میں سمیٹ کر چھپا لیتی ہیں۔ یہی سب کچھ وادی میں روز کا معمول ہے۔ عوام اور عوامی نمائندے 60 دن گذر گئے، گھروں میں محروس ہیں، کشمیریوں کے نمائندوں کے مکانات کو جیل میں تبدیل کردیا گیا۔ کسی بھی جمہوری ملک میں تحدیدات اور نظربندی کی اس قدر بدترین مثال شاید دیکھنے میں آئی ہو جہاں کسی قصور کے بغیر عوام کو بنیادی سہولتوں سے محروم کردیا گیا۔ حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ 370 کی برخاستگی اور کشمیر کی تقسیم سے عوام خوش ہیں، اگر یہ درست ہے تو عوام کو خوشیاں اور جشن منانے کیلئے کھلا کیوں نہیں چھوڑتے۔ 60 دن سے زائد تک پابندیوں کا جاری رہنا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت جانتی ہے کہ عوام خوش نہیں ہیں۔ تحدیدات کے ذریعہ عوامی ناراضگی کو ختم نہیں کیا جاسکتا بلکہ حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہی ہوگا۔ دنیا میں جہاں کہیں ڈکٹیٹر حکمرانوں نے طاقت کے بل پر عوام کو دبانے کی کوشش کی، وہاں انقلاب آیا اور ڈکٹیٹر کا عبرتناک انجام ہوا۔ کشمیریوں کا آخر قصور کیا ہے، جس کی انہیں سزا دی جارہی ہے اور غیرانسانی سلوک روا رکھا گیا۔ ان کے قائدین نے ملک کے دستور اور انتخابی سسٹم کو اپنایا اور مختلف اوقات میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ، مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی حلیف رہے۔ انہیں بھروسہ تھا کہ نریندر مودی’’جمہوریت، انسانیت اور کشمیریت‘‘ کے نعرے پر عمل کریں گے۔ مودی نے کشمیریوں کو گلے لگانے اور گولی سے نہیں بلکہ میٹھی بولی سے دل جیتنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ کسی ایک بات پر بھی قائم نہیں رہے۔ غیرجمہوری انداز میں 370 کی برخاستگی اور ریاست کی تقسیم کے ذریعہ کشمیریت کی شناخت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ستم بالائے ستم یہ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے تحدیدات نافذ کئے گئے جو جذبہ ٔ انسانیت کے مغائر ہے۔ کشمیر میں نارملسی کا دعویٰ کرنے والے امیت شاہ و نریندر مودی نے 370 کی برخاستگی کے بعد آج تک کشمیریوں کا درد باٹنے کیلئے وادی کا دورہ نہیں کیا۔ اگر اس جوڑی کی بات کو تسلیم کرلیا جائے تو ہم یوں کہیں گے کہ دونوں نے کشمیریوں کی خوشی میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ گجرات کی یہ جوڑی شاید ہی کشمیر کا دورہ کرنے کی ہمت کرے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ اگر یہ جوڑی ملک کے جنت نشاں کی زمین پر قدم رکھنے تیار نہیں تو کم از کم وادی کا فضائی دورہ کریں تاکہ حالات سے واقفیت ہو کہ بازار اور اسکولس کس حد تک کھلے ہیں۔ فضائی سروے عام طور پر آفات سماوی کے لئے کیا جاتا ہے لیکن یہ سروے مرکزی حکومت کی جانب سے مسلط کردہ آفت کے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے ہے۔ مودی اور امیت شاہ کو پولیس، انٹلیجنس، ملٹری انٹلیجنس اور میڈیا پر بھروسہ کئے بغیر خود کشمیر کا دورہ کرنا چاہئے تاکہ آبادیوں کے ویرانوں میں تبدیلی کا بہ چشم خود مشاہدہ کرسکیں۔ انہیں اندازہ ہوگا کہ گجرات کے بھیانک فسادات میں نافذ کردہ کرفیو بھی اس قدر سخت نہیں تھا جتنا کہ وادی میں تحدیدات کے دوران پابندی ہے۔ وادی میں حالات ٹھیک ہونے کا دَم بھرنے والے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ وادی میں عوام نے خود اپنے آپ پر کرفیو نافذ کرلیا ہے۔ مرکز کے فیصلے سے کشمیری اس قدر ناراض ہیں کہ وہ مصیبتوں اور صعوبتوں کو برداشت کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کشمیریوں سے مرکز کو نہ سہی لیکن سنگھ پریوار کو دُشمنی ضرور ہے۔ کشمیریوں کا قصور بس اتنا ہے کہ وہ مسلم اکثریتی ریاست کا حصہ ہیں لہذا ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔

370 کی برخاستگی اور ریاست کی تقسیم کے باوجود آج تک مرکزی حکومت اپنے فیصلوں پر عمل آوری میں ناکام ثابت ہوئی ہے، یہ فوج نیم فوجی دستوں اور پولیس کی موجودگی کے باوجود اس لئے بھی ممکن نہ ہوسکا کیونکہ عوام نے ابھی تک مرکز کے فیصلے کو قبول نہیں کیا۔ اسے مودی حکومت کی ناکامی نہیں تو اور کیا کہیں گے کہ 60 دن گذرنے کے باوجود حکومت اپنے فیصلے کے بارے میں بے بس ہے۔ اگر وادی میں حالات معمول پر ہیں تو پھر اضافی سکیورٹی فورسیس کو واپس طلب کرکے دکھائیں جبھی عوام کو حکومت کے دعوے پر بھروسہ ہوگا۔ گجراتی جوڑی نے ’’ایک ملک، ایک دستور‘‘ کا نعرہ لگایا لیکن یہ نعرہ صرف کشمیر کیلئے کیوں، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش کا خصوصی موقف بھی ختم کیا جانا چاہئے۔ ناگالینڈ میں ناگا باغیوں کے ہاتھ میں ایڈمنسٹریشن ہے جبکہ اروناچل پردیش ، چین کی چہل قدمی کا مرکز بن چکا ہے، جب چاہے چینی فوج اروناچل پردیش میں چہل قدمی کی طرح آکر واپس ہوجاتی ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کو غیرمعمولی کامیابی نہیں ملی۔ چین، ترکی اور ملائیشیا نے کشمیر کے مسئلہ پر ہندوستان کے موقف کی کھل کر مخالفت کی۔ سعودی عرب کو مطمئن کرنے کیلئے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو روانہ کیا گیا۔ جب سعودی عرب، ہندوستان کے ساتھ ہے تو پھر اجیت دوول کی روانگی کیا معنی۔ ظاہر ہے کہ سعودی عرب سے کچھ نہ کچھ اشارے ضرور ملے ہوں گے جس کے نتیجہ میں ہندوستان کو اپنا نمائندہ بھیجنا پڑا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک کسی بھی مسلم ملک نے دفعہ 370 کی برخاستگی اور کشمیر کی تقسیم کی تائید نہیں کی بلکہ صرف اتنا کہا کہ یہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ کشمیر، کشمیریوں کی بے بسی اور ابتر حالت پر باقی ہندوستانی مسلمانوں اور مسلم قیادت کی بے حسی اور سناٹے افسوسناک ہیں۔ اگرچہ آواز کے سناٹے اور سناٹوں کی آواز تو ہوتی ہے لیکن کشمیر کے معاملے میں مسلمانوں اور قیادت میں صرف سناٹے ہی سناٹے ہیں۔ آواز تو صرف انسانی حقوق کی تنظیمیں اُٹھا رہی ہیں۔ اگر یہی بے حسی برقرار رہی تو پھر نومبر میں بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ سنگھ پریوار یہی چاہتی ہے کہ مسلمان خواب ِ غفلت کا شکار رہیں اور خوف و دہشت کے عالم میں خود کو دوسرے درجہ کا شہری محسوس کریں۔ سنگھ پریوار کا اگلا نشانہ بابری مسجد کی اراضی اور پھر یکساں سیول کوڈ اور مسلمانوں کو رائے دہی کے حق سے محروم کرنا ہے۔ وہ دن بھی دُور نہیں جب تمام مسلم تنظیموں کو اپنے ناموں کے ساتھ لفظ ’’مسلم‘‘ کو حذف کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ حیدرآباد کے نامور شاعر محمد علی وفاؔ نے حالات کی کچھ اس طرح عکاسی کی ہے:
مطمئن دِل ہو تو زنداں بھی گھر لگتا ہے
ورنہ گلشن کی فضاؤں میں بھی ڈر لگتا ہے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT