ورک فرم ہوم کلچر کو فروغ دینے والی کمپنیوں کی آمدنی میںاضافہ

   

سرکاری و ملازمین کی آمدنی میں کمی ۔ ماہرین معاشیات کی صورتحال پر گہری نظر

حیدرآباد۔کارپوریٹ اداروں میں گھروں سے کام کرنے کے کلچر کو فروغ دینے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ کورونا خدشات سے عملہ کو محفوظ رکھا جاسکے ۔ عالمی سطح کی کئی سرکردہ آئی ٹی کمپنیوں سے ملازمین کو گھروں سے کام کروانے پر توجہ دی جا رہی ہے لیکن ورک فرم ہوم کے کلچر کے فروغ نے حکومت کو ان کمپنیوں کی جانب راغب کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ سرکاری ماہرین نے حکومت کو جو رپورٹ دی ہے اس کے مطابق جن کمپنیوں کی جانب سے ورک فرم ہوم کے کلچر کو فروغ دیا جا رہاہے ان کی آمدنی میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور ملازمین کی آمدنی اور حکومت کی آمدنی میں کٹوتی ہونے لگی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ورک فرم ہوم کلچر کے فروغ سے کمپنیوں کو عارضی فائدہ تو ہوگا لیکن ٹیکس کی ادائیگی کے معاملہ میں ان کو نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ ویپرو کے ایک لاکھ 85ہزارملازمین میں 3000 ملازمین دفاتر سے خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ مابقی ملازمین گھروں سے کام کر رہے ہیں۔ ویپرو نے ابتداء میں ماہ ستمبر تک ورک فرم ہوم کی اجازت دی تھی لیکن اب غور کیا جانے لگا ہے کہ سال کے آخر تک اس میںتوسیع دی جائے۔ عالمی سطح پر جن کمپنیوں نے سال 2020کے آخر تک ورک فرم ہوم کا فیصلہ کیا ہے ان میں مائیکروسافٹ اور گوگل کے علاوہ دیگر شامل ہیں۔ ماہرین معاشیات کی جانب سے ورک فرم ہوم کے کلچر کے خاتمہ پر توجہ دی جانے لگی ہے کیونکہ حکومت کے ماہرین کا کہناہے کہ ورک فرم ہوم کلچر حکومت کی آمدنی پر اثرانداز ہوگا اور کمپنیوں کو منافع ہوگا اسی لئے حکومت کمپنیوں سے زائد ٹیکس کی وصولی پر غور کرنے لگی ہے ۔کہا جارہا ہے کہ جن شہروں میں آئی ٹی کمپنیاں سرگرم ہیں ان میں برقی طلب میں گراوٹ اور گھریلو برقی کھپت میں اضافہ کے علاوہ پٹرول کی طلب میں گراوٹ اور دیگر امور کے متعلق تفصیلات اکٹھا کی جا رہی ہیں۔آئی ٹی کمپنیوں سے دنیا کے بیشتر ممالک میں ورک فرم ہوم کے کلچر کو فروغ دیا جا رہاہے اور ٹیلی کالرس کے علاوہ تجارتی روابط اور ہیلپ لائن کے امور کو گھروں سے ہی انجام دیئے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔