وزارت خزانہ اور اسپیکر کے عہدہ کیلئے این ڈی اے میں رسہ کشی

   

دہلی : نریندر مودی تیسری بار وزیر اعظم بننے کی تیاری کر رہے ہیں، ساتھ ہی کابینہ میں رسہ کشی جاری ہے۔ اس بار بی جے پی اکیلے اکثریت حاصل نہیں کر سکی، اس لیے اتحادیوں کی بھی سننی پڑے گی۔سب سے پہلے دونوں بڑے حلیفوں نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو کے مطالبات کو پورا کرنا ہوگا۔ پھربی جے پی اراکین پارلیمنٹ کو ایڈجسٹ کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے بی جے پی یوپی، راجستھان اور گجرات سے وزرا کو کم کر سکتی ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹی ڈی پی کو 4، جے ڈی یو کو 3، ایل جے پی اور شیو سینا کو 2۔2 وزارتی عہدے مل سکتے ہیں۔ حالانکہ نتیش کمار نے 4 کابینہ اور ایک وزیر مملکت کے عہدے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بی جے پی کے بعد این ڈی اے کی سب سے بڑی پارٹی ٹی ڈی پی اور جے ڈی یو وزارت خزانہ کے ساتھ اسپیکر کے عہدے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جانچ ایجنسی ای ڈی وزارت خزانہ کے تحت آتی ہے۔تاہم بی جے پی ذرائع کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی دفاع، خزانہ، داخلہ اور خارجہ امور کی وزارتیں اپنے پاس رکھے گی۔ یہ فیصلہ پارٹی صدر جے پی نڈا کے گھر میں ہوئی میٹنگ میں لیا گیا ہے۔ بی جے پی اسپیکر کا عہدہ بھی برقرار رکھے گی۔ نیز الیکشن جیتنے والے تمام وزراء کو دہرایا جا سکتا ہے۔مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کو بڑا رول مل سکتا ہے۔ وزارت خزانہ کی ذمہ داری نرملا سیتا رمن کے بجائے پیوش گوئل کو دی جا سکتی ہے۔ تاہم ابھی تک وزراء کے قلمدان کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔نئی کابینہ میں دو خواتین وزراء کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ کرناٹک سے جے ڈی (ایس) کے ایم پی ایچ ڈی کمارسوامی کو وزیر بنایا جا سکتا ہے۔ این ڈی اے میں ٹی ڈی پی کے پاس سب سے زیادہ ممبران ہیں۔ ٹی ڈی پی دو کابینی وزراء اور دو ریاستی وزراء کے عہدوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔ یہ یقینی ہے کہ ٹی ڈی پی کی کابینہ میں 4 وزراء ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ لوک سبھا اسپیکر کا عہدہ بھی چاہتی ہیں۔ تاہم بی جے پی کسی بھی قیمت پر اسپیکر کا عہدہ نہیں دینا چاہتی۔